الجزیرہ کی جانب سے بلوچ کارکن کا انٹرویو ہٹانے پر تنازع، انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش

162

بین الاقوامی ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم AJ+ کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور بلوچ سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جب اس نے مبینہ طور پر بلوچ انسانی حقوق کے کارکن یوسف بلوچ کا ایک انٹرویو شائع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اپنے آن لائن پلیٹ فارم سے ہٹا دیا۔

یہ انٹرویو ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تھا، جس میں یوسف بلوچ نے بلوچستان میں درپیش سنگین مسائل پر گفتگو کی، جن میں ان کے بقول ریاستی قبضہ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، جبری گمشدگیاں اور خطے کو درپیش ماحولیاتی بحران شامل تھے۔ تاہم، ویڈیو مختصر وقت کے بعد ہٹا دی گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ادارتی آزادی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔

ایکس (سابق ٹوئٹر) پر متعدد کارکنوں نے اس اقدام کو تنقیدی آوازوں کی سنسرشپ قرار دیا۔

صحافی اور کالم نگار تاج بلوچ نے لکھا:
“یہ حیران کن ہے کہ الجزیرہ نے یوسف بلوچ کا وہ انٹرویو ہٹا دیا جس میں انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کی۔ کیا یہ صحافت کا اخلاقی طریقہ ہے؟”

ہیومن رائٹس کونسل آف بلوچستان (HRCB) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبداللہ عباس بلوچ نے بھی اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا:
“پاکستان میں بلوچ آوازوں کی میڈیا سنسرشپ کی کوئی حد نہیں۔ الجزیرہ نے انٹرویو ہٹا دیا… کیا واقعی پاکستان کا اسٹیبلشمنٹ الجزیرہ پر اتنا اثر رکھتا ہے کہ وہ طے کرے کون سی آواز دکھائی جائے اور کون سی دبائی جائے؟”

جبکہ نورِ مریم کنور نے لکھا:
“یہی طریقہ ہے جس سے پاکستان عالمی سطح پر بلوچ اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں کسی حقیقی بلوچ آواز کو جگہ ملنا انتہائی نایاب ہے۔ اکثر وہی لوگ سامنے لائے جاتے ہیں جو ریاستی بیانیے کے مطابق ہوں۔ یوسف بلوچ کا انٹرویو ہٹانا الجزیرہ کے لیے انتہائی افسوسناک اقدام ہے۔”

یہ بیانات، جنہیں متعدد دیگر صارفین نے بھی شیئر کیا، بلوچ کمیونٹی میں اس وسیع تر تشویش کی عکاسی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا میں ان کی نمائندگی محدود ہے اور پاکستان کی بلوچستان سے متعلق پالیسیوں پر تنقیدی مؤقف کو نشر کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔

تاحال AJ+ یا اس کے ذیلی ادارے الجزیرہ کی جانب سے انٹرویو ہٹانے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ آیا یہ فیصلہ ادارتی، قانونی یا بیرونی سیاسی دباؤ کے تحت کیا گیا۔

بلوچستان طویل عرصے سے انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار سے متعلق مباحث کا مرکز رہا ہے۔ متعدد عالمی انسانی حقوق تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں بلوچستان میں کارکنوں اور صحافیوں پر عائد پابندیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر ادارے ماضی میں پاکستانی حکام پر انسدادِ دہشت گردی اور عوامی نظم و ضبط کے قوانین کے تحت بلوچ کارکنوں اور پرامن مظاہرین کی گرفتاری اور ہراسانی پر تنقید کر چکے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر گیا ہے کہ سیاسی طور پر حساس خطوں میں میڈیا کس حد تک آزاد ہے، طاقتور ریاستی بیانیوں کو چیلنج کرنے والی آوازوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے، اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں۔ یوسف بلوچ کے انٹرویو کو ہٹانے اور اس پر ہونے والے عوامی ردِعمل نے میڈیا کی آزادی، محروم قوموں کی نمائندگی، اور صحافتی ذمہ داری جیسے بنیادی سوالات کو دوبارہ اجاگر کر دیا ہے۔