آپریشن ہیروف تمام محاذوں پر فیصلہ کن کامیابی کے ساتھ مکمل – بی ایل اے

349

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ زیرِ اہتمام آپریشن ہیروف دوم، جو چھ روز پر محیط مربوط شہری جنگی کارروائیوں پر مشتمل تھا، بلوچ قومی مزاحمت کی جدید تاریخ کی سب سے وسیع، شدید اور منظم عسکری مہم ثابت ہوا۔ 

ترجمان کے مطابق یہ آپریشن 31 جنوری کی صبح پانچ بجے شروع ہوا اور 6 فروری کی شام چار بجے اپنے مقررہ اہداف کے حصول کے بعد مکمل کیا گیا، اس دوران بلوچستان کے چودہ شہروں کو ہدف بنایا گیا۔ 

بلوچ سرمچاروں نے نہ صرف بیک وقت حملے کیئے بلکہ دشمن کی متعدد چوکیوں، عسکری تنصیبات اور شہری علاقوں پر مؤثرکنٹرول بھی قائم کیا گیا، کئی شہروں میں بی ایل اے کے دستے مسلسل چھ دن تک قابض افواج کو پسپا رکھے رہے، جس کے نتیجے میں دشمن کو سیاسی، نفسیاتی اور عسکری سطح پر نمایاں نقصان اٹھانا پڑا۔

ترجمان نے کہا اس آپریشن کے دوران بی ایل اے کے مجموعی طور پر ترانوے سرمچاروں نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں مجید بریگیڈ کے پچاس فدائی، فتح اسکواڈ کے چھبیس اور اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) کے سترہ سرمچار شامل ہیں۔ 

انہوں نے بتایا اس تاریخی کارروائی میں بی ایل اے کے تمام بڑے یونٹس نے حصہ لیا، جن میں مجید بریگیڈ، ایس ٹی او ایس، فتح اسکواڈ، زراب (انٹیلی جنس ونگ) اور ہکل (میڈیا ونگ) شامل تھے، کارروائیوں کے دوران تین سو باسٹھ سے زائد دشمن اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں قابض پاکستانی فوج، فرنٹیئر کور، پولیس اور قابض ریاست کے زیرِ سرپرستی قائم ڈیتھ اسکواڈز کے کارندے شامل ہیں۔ 

ترجمان نے اپنے بیان میں بتایا آپریشن ھیروف کے دوران سترہ اہلکار گرفتار کیئے گئے، جن میں سے دس اہلکاروں کو بلوچ ہونے کے ناطے وارننگ دیکر رہا کردیا گیا، جبکہ سات اہلکار ہمارے تحویل میں ہیں، جن پر جنگی جرائم و نسل کشی میں ملوث ہونے کا مقدمہ چلایا جائیگا، اس دوران درجنوں فوجی مراکز تباہ کیئے گئے، اسلحہ ضبط کیا گیا اور ایک منظم و متحد بلوچ مزاحمت نے قابض ریاست کی جنگی برتری کو شدید دھچکا پہنچایا۔

جیئند بلوچ نے کہا آپریشن کے اختتام پر بی ایل اے اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ ہیروف دوم کے تمام تزویراتی اور حربی مقاصد مکمل طور پر حاصل کر لیئے گئے ہیں۔

اس کارروائی کے بنیادی اہداف تین تھے، اول، یہ ثابت کرنا کہ بلوچ سرمچار اپنی مرضی کے مطابق شہری مراکز پر حملہ اور کنٹرول قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوم بلوچ قوم کو یہ پیغام دینا کہ یہ مزاحمت اجتماعی اعتماد اور تنظیمی قوت پر قائم ہے۔

اور سوم، قابض افواج کی اس مفروضہ برتری کو توڑنا جو بلوچستان بھر میں بلاچیلنج اختیار کے دعوے پر مبنی تھی۔

انہوں نے کہا شہری جنگ کا انتخاب اتفاقی نہیں تھا وہ شہر جنہیں قابض فوج محفوظ قلعے سمجھتی تھی، دانستہ طور پر منتخب کیئے گئے تاکہ یہ واضح ہو کہ بلوچ مزاحمت اب محض پہاڑوں تک محدود نہیں رہی، بی ایل اے نے اہم فوجی مراکز، چیک پوسٹوں اور شہری حصوں پر اتنی دیر تک کنٹرول برقرار رکھا کہ بلوچ عوام اور عالمی برادری دونوں تک یہ پیغام پہنچ سکے کہ یہ تحریک اپنی حکمتِ عملی خود ترتیب دینے اور میدانِ جنگ کو اپنی شرائط پر متعین کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ نتائج محض علامتی نہیں تھے بلکہ عملی، سیاسی اور گہرے نفسیاتی اثرات کے حامل تھے، آپریشن ہیروف دوم اپنی اساس میں ان نوآبادیاتی بیانیوں کی نفی ہے جن کے ذریعے بلوچ قومی تحریک کو قبائلی، دہشتگردانہ یا انتہاپسند قراردینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، بلوچ مزاحمت نہ منتشر ہے نہ ردِعمل کی سیاست پر مبنی ہے بلکہ یہ سیاسی شعور، تنظیمی نظم اور قومی وقار پر قائم ایک منظم جدوجہد ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا قابض پاکستانی ریاست کی جانب سے ہماری جدوجہد کو دہشت گردی یا مذہبی انتہاپسندی کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ایک سیاسی تحریک کی حقیقت کو مسخ کرنا ہے، بلوچ مسلح جدوجہد نہ نسل پرستانہ  و فرقہ وارانہ نظریات پر مبنی ہے اور نہ بیرونی مالی معاونت پر اسکا انحصار ہے۔ 

اس تحریک کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ طالبعلم، پروفیسرز، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، دانشوروں اور بلوچ سماج کی مختلف پرتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین و مرد کررہے ہیں، اس جدوجہد کی بنیاد ایک ایسے آزاد و خودمختار بلوچ وطن کے تصور پر ہے جہاں آزادی، تعلیم، صحت، عزت اور وسائل پر اختیار چند افراد کی مراعات نہ ہوں بلکہ ہر بلوچ شہری کا حق ہوں۔

انہوں نے کہا یہ مزاحمت پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کے اندر سے جنم لینے والی تحریک نہیں، ہم خود کو اس نوآبادیاتی ساخت کا حصہ نہیں سمجھتے یہ احتجاج نہیں بلکہ مزاحمت ہے یہ ستر برس سے زائد عرصے پر محیط قبضے، وسائل کی لوٹ مار اور منظم تشدد کا جواب ہے۔ 

قابض ریاست مکالمے کے بجائے گولی، جبری گمشدگیوں، عقوبت خانوں، آبادیاتی تبدیلی اور کٹھ پتلی انتظامیہ کے ذریعے اپنے قبضے کو دوام دینا چاہتا ہے، اور اس کا مقصد بلوچ شناخت کو کمزور کرکے بلوچوں کو اپنی ہی سرزمین میں اقلیت میں بدل دینا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ماضی میں پرامن اور سیاسی ذرائع اختیارکیئے، انہیں جھوٹے مقدمات، جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے ذریعے خاموش کردیا گیا، آج بلوچستان میں کوئی ایسا گھرباقی نہیں جو ریاستی تشدد سے متاثر نہ ہوا ہو، طلبہ کو تعلیمی اداروں سے اغوا کیا جاتا ہے، اور پرامن احتجاج کرنے والی خواتین تک کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کے بعد بہت سے لوگوں کے پاس مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔

بی ایل اے ترجمان نے کہا ہے ہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، قانون کی حکمرانی کے دعوے دار ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں قابض افواج کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کے حجم کو تسلیم کریں، اس قبضے کے خاتمے اور ایک طویل عرصے سے اپنی آواز سے محروم قوم کے لیئے انصاف کی فراہمی کے لیئے مؤثر سفارتی دباؤ ناگزیر ہے۔

انکا مزید کہنا تھا غیر ملکی کمپنیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بھی خبردار کیا جاتا ہے کہ بلوچستان کے معدنی وسائل کے استحصال میں پاکستان کے ساتھ کسی بھی شراکت کو قبضے میں معاونت تصور کیا جائے گا، ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہم اپنی سرزمین پر پاکستان کے اقتدار یا دعوے کو تسلیم نہیں کرتے جو ادارے پاکستان کے نوآبادیاتی منصوبوں میں شریک ہوں گے، انہیں اسی تناظر میں دیکھا جائے گا، اور ان کی موجودگی کو فوجی مشینری سے جدا نہیں سمجھا جائے گا۔

ترجمان نے آخر میں کہا ہم ان تمام بلوچ مرد و خواتین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے آپریشن ہیروف دوم کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کا ساتھ دیا۔ 

انکے مطابق انٹیلی جنس سے لے کر لاجسٹک معاونت تک، اور اجتماعی سزاؤں کے باوجود ثابت قدمی تک، قوم کا کردار فیصلہ کن رہا۔ یہ کامیابی پوری قوم کی ہے، اور یہ صرف آغاز ہے۔ 

ہم بار بار لوٹیں گے، ہر بار زیادہ مضبوط، زیادہ تیار اور زیادہ متحد ہوکر لوٹیں گے، یہاں تک کہ قابض افواج ہماری سرزمین سے نکلنے پر مجبور ہوجائیں۔