مسلح آزاد پسند تنظیم کی جانب سے نوشکی سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہونے والے حملوں کی دستاویزی ویڈیوز جاری کی جارہی ہیں۔
بلوچستان کا ضلع نوشکی آج بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا، جہاں اسکولوں سمیت سرکاری دفاتر بند رہے، جبکہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ نوشکی میں بی ایل اے کے حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے گذشتہ ہفتے بلوچستان بھر میں آپریشن ھیروف کے تحت حملوں اور مختلف علاقوں پر قبضے کا سلسلہ شروع کیا، اور نوشکی گذشتہ ایک ہفتے سے بی ایل اے کے کنٹرول میں رہا۔
تنظیم کی جانب سے اس دوران نوشکی سے متعدد ویڈیوز جاری کی گئیں جن میں ان کے سرمچاروں کو پاکستانی فورسز، خفیہ ادارے آئی ایس آئی، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں پر حملے کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
بی ایل اے نے اپنے آفیشل چینل ہکل پر ایک اور دستاویزی ویڈیو جاری کی ہے جس میں جنگجوؤں کو ایک پولیس تھانے پر حملہ کرتے، وہاں موجود پاکستانی جھنڈے اور سرکاری دستاویزات کو تباہ کرتے دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بی ایل اے کے جنگجو بڑی مقدار میں سرکاری اسلحہ اور دیگر اشیاء اپنے قبضے میں لے رہے ہیں، جن میں AK-47 بندوقیں، میگزین اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔
مزید یہ کہ ویڈیو میں حملہ آوروں کو تھانے کے دروازے توڑ کر قیدیوں کو رہا کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔
صورتحال کے حوالے سے بی ایل اے نے کوئی تازہ بیان جاری نہیں کیا، تاہم گذشتہ روز جاری ایک بیان میں تنظیم نے پاکستانی دعووں کو رد کرتے ہوئے آپریشن ھیروف کے جاری رہنے کا اعلان کیا تھا۔
















































