قیمتِ آزادی جب عمر، جنس اور رشتے سب قربان ہو گئے ۔ زِرغام بلوچ

46

قیمتِ آزادی جب عمر، جنس اور رشتے سب قربان ہو گئے

تحریر: زِرغام بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

یہ کوئی عام اعلان نہیں، یہ تاریخ کا وہ فیصلہ کن لمحہ ہے جس میں سچ نے اپنے وجود پر مہر لگا دی ہے۔ آپریشن ھیروف 2 میں شامل فدائیوں اور شریک افراد نے آج یہ حقیقت ناقابلِ تردید بنا دی کہ وطن کے لیے دی جانے والی قربانی کے آگے نہ عمر دیوار بن سکتی ہے، نہ جنس، اور نہ ہی دنیاوی آسائشیں۔

یہ وہ منظر ہے جس میں نوجوان مرد، بہادر خواتین، سفید بالوں والے بزرگ حتی کہ شادی شدہ جوڑے ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ہی محاذ، ایک ہی عزم، اور ایک ہی مقصد مادرِ وطن کی حرمت اور آنے والی نسلوں کی باوقار زندگی۔

آپریشن ھیروف 2 محض ایک واقعہ نہیں، یہ تاریخ کا وہ باب ہے جو بلوچوں ہی نہیں، پوری دنیا کو یہ سکھاتا ہے کہ اپنی گلزمین سے محبت نعرے نہیں مانگتی وہ کردار مانگتی ہے، استقامت مانگتی ہے، اور قیمت مانگتی ہے۔

ھیروفی لشکر کے نوجوانوں نے اپنی جوانی کی رعنائی کو پیچھے چھوڑا؛ ستر سالہ بزرگوں نے آرام دہ بڑھاپے کو نظرانداز کیا؛ اور مضبوط ازدواجی رشتوں میں بندھے جوڑوں نے آنے والے کل کے خوابوں کو قربان کر دیا۔ انہوں نے اگر کچھ چُنا تو صرف ایک راستہ اپنی مادرِ وطن، اپنی آئندہ نسلوں، اور ایک آزاد و خودمختار مستقبل کا راستہ۔

ایسی عظیم ہستیاں شکست کے معنی بدل دیتی ہیں۔ نہ انہیں جھکایا جا سکتا ہے، نہ خاموش کرایا جا سکتا ہے، اور نہ ہی ان کے عزم کا کوئی متبادل ہوتا ہے۔ ان کی قربانیاں سوال بن کر نہیں، جواب بن کر ابھرتی ہیں۔

ھیروفی لشکر کی قربانیوں نے دنیا کو چونکا دیا ہے—کیونکہ جب قومیں جاگتی ہیں تو تاریخ اپنے لہجے بدل لیتی ہے۔

یہ تحریر کسی لمحاتی جوش یا وقتی کیفیت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک عہد ہے یاد رکھنے کا، سمجھنے کا، اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کا۔ یہ اُن قدموں کی گواہی ہے جو خاموشی سے اٹھے، مگر جن کی بازگشت تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ سنائی دے گی۔ وقت خود فیصلہ کرے گا کہ کن ناموں کو فراموشی ملی اور کن کرداروں نے زمانے کی سمت بدل دی۔

جنہوں نے سب کچھ چھوڑ کر وطن کو چُنا، انہوں نے صرف اپنی ذات کی قربانی نہیں دی بلکہ آنے والے کل کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ قومیں نعروں سے نہیں، کردار سے زندہ رہتی ہیں؛ اور آزادی خواہش سے نہیں، قیمت سے حاصل ہوتی ہے۔ جب یادداشتیں کمزور پڑتی ہیں تو تاریخ بولتی ہے، اور جب تاریخ بولتی ہے تو وہ صرف نام نہیں گنتی وہ وزن تولتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ چہرے مٹ جاتے ہیں، مگر کردار امر ہو جاتے ہیں۔ یہی کردار قوموں کو شناخت دیتے ہیں، اور یہی شناخت آنے والی نسلوں کے لیے سمت متعین کرتی ہے۔ آج کا لمحہ کل کی تاریخ ہے، اور تاریخ ہمیشہ اُنہی کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے سچ کا بوجھ اٹھایا

خاموشی، وقار اور استقامت کے ساتھ۔

رخصت آف اوارون سنگت اک


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔