بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے وزیر داخلہ بلوچستان علی محمد جتک اور کمشنر کوئٹہ حمزہ شفاقت کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
ترجمان نے میڈیا کو 31 جنوری کو علی الصبح بلوچستان کے بارہ سے زائد اضلاع میں ہونے والے حملوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔
شاہد رند نے دعویٰ کیا کہ تمام حملہ آور مارے جاچکے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ بندش سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ اور نوشکی میں آپریشن کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مارے گئے حملہ آوروں کی شناخت کی جارہی ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ لاشوں کی شناخت کے بعد حکومت حملہ آوروں کے رشتہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گی، جس کی قانون میں اجازت موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان جلد ایک تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔
یاد رہے کہ سرفراز بگٹی حکومت نے بلوچستان میں مسلح تنظیموں میں شامل افراد کے اہل خانہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ حکام کو یہ معلومات فراہم نہیں کرتے کہ ان کے پیارے مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسلح افراد کے رشتہ داروں کو گرفتار کرنا، نوکریوں سے برخاست کرنا سمیت دیگر اقدامات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بلوچستان میں بلوچ مسلح تنظیموں سے وابستہ افراد کے لواحقین کے خلاف اقدامات کیے جارہے ہیں، اس سے قبل بھی متعدد بار پاکستانی فورسز حملہ آوروں کے رشتہ داروں اور والدین کو حراست میں لے کر لاپتہ کرچکی ہے، جن میں زیادہ تر وہ خاندان شامل تھے جن کے پیارے خودکش حملوں میں ملوث رہے۔
مزید برآں بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈروں اور ارکان کے رشتہ داروں کی جبری گمشدگی کے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں، جن میں بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کے بھائی بھی شامل ہیں جنہیں گزشتہ سال کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جب وہ وہاں ملازمت کر رہے تھے۔














































