بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے آپریشن ھیروف کے تسلسل، زمینی حقائق، اور دشمن فوج کے جھوٹے بیانات کے تناظر میں ایک بار پھر دوٹوک اور واضح الفاظ میں اعلان کرتی ہے کہ آپریشن ھیروف ۲ اپنے چھٹے روز میں بھی پورے عزم، تسلسل اور عسکری کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ جب تک بی ایل اے خود کسی آپریشن کی تکمیل کا اعلان نہ کرے، تب تک قابض ریاست کے دعوے اور آئی ایس پی آر کی تشہیری مہمات محض پروپیگنڈہ شمار کیئے جائیں، جنہیں نہ زمینی حقائق کی پشت پناہی حاصل ہے، نہ بلوچ سماج میں کوئی اعتبار۔
انہوں نے کہاکہ آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس ریلیز اس جھوٹ کا تسلسل ہے جس کا آغاز آپریشن ھیروف کے پہلے ہی دن سے ہوچکا تھا۔ ریاست نے پہلے روز ہی یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے آپریشن مکمل کرلیا ہے اور “تمام حملہ آوروں” کو مار دیا ہے۔ یہی دعویٰ وہ گزشتہ چھ دنوں سے مسلسل دہراتے آرہے ہیں۔ ان کی ہر نئی پریس ریلیز گزشتہ دعوے کی تردید ہوتی ہے، اور ہر نام نہاد “کامیابی” درحقیقت شکست کا نیا اعتراف بن کر سامنے آتی ہے۔ کسی بھی باشعور صحافی یا آزاد ذہن کے لیئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ قابض پاکستانی فوج نہ صرف میدانِ جنگ میں مسلسل پسپا ہے، بلکہ بیانیاتی سطح پر بھی مکمل طور پر عریاں ہوچکی ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار اور فدائین اپنی مزاحمتی شرکت کو شہادت کا درجہ دے کر اختیار کرتے ہیں۔ ہمارے لیئے کسی بھی سرمچار کی شہادت ایک فخریہ حقیقت، عزمِ مزاحمت کی تجدید، اور آئندہ نسلوں کے لیئے استقامت کا استعارہ ہوتی ہے۔ بی ایل اے اپنے شہداء کے نام، تصاویر، اعداد و شمار، اور حالاتِ شہادت کو فخریہ طور پر شائع کرتی ہے، اور ان کے نظریاتی مقام کو تحریک کے مرکز میں محفوظ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، پاکستانی فوج اپنے کرائے کے سپاہیوں کی لاشوں کو چھپاتی ہے، ان کی شناخت پوشیدہ رکھتی ہے، اور ان کے تابوتوں پر خاموشی کی مہر ثبت کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ یہ افراد ایک ایسی ظالمانہ جنگ کا ایندھن بنے ہیں جس کی نہ کوئی اخلاقی بنیاد ہے، نہ سیاسی جواز، اور نہ عوامی حمایت۔
ترجمان نے کہاکہ آئی ایس پی آر کی جانب سے روزانہ درجنوں سرمچاروں کی شہادت کے دعوے دراصل دو بڑے مقاصد کے تحت کیئے جاتے ہیں: اول، بالخصوص پنجاب کے عوام کے سامنے ریاستی اداروں کی مسلسل عسکری ناکامیوں، اور دفاعی بجٹ کے خوردبرد کو جعلی فتوحات کے پردے میں چھپانا تاکہ ان سے کوئی یہ سوال نہ کرے کہ دنیا کے ساتویں بڑے دفاعی بجٹ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس افواج کے باوجود بلوچ سرزمین پر قبضہ کیوں قائم نہیں ہوپا رہی۔ دوم، اپنے جھوٹے بیانیے کو سچ ثابت کرنے کے لیئے جبری طور پر لاپتہ افراد کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشوں کو مزاحمتکار ظاہر کرنا، تاکہ ریاست کے اذیت خانوں اور جبری گمشدگیوں کے جرائم کو چھپایا جاسکے۔
مزید کہاکہ آپریشن ھیروف کے دوران، بی ایل اے کو بلوچ عوام کی جس سطح پر عملی مدد، انٹیلیجنس تعاون، اور اخلاقی حمایت حاصل رہی ہے، وہ قابض ریاست کے لیئے ناقابلِ تصور ہے۔ ریاستی ادارے، جو بندوق کے زور پر زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، اپنی تشہیری مشینری کے ذریعے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس کے برعکس، بی ایل اے اپنی اصولی مزاحمت، زمینی جڑت، اور مسلسل قربانیوں کے ذریعے تحریک کو ایک ناقابلِ شکست قوت میں تبدیل کرچکی ہے۔
آخر میں کہاکہ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ آپریشن ھیروف کی تکمیل اور کامیابی کا تعین صرف اور صرف بلوچ لبریشن آرمی کرے گی، نہ کہ وہ قابض قوت جو ہر روز جھوٹے اعداد و شمار کے سہارے اپنی شکست کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہی ہو۔ اور جب بی ایل اے اس آپریشن کی تکمیل کا اعلان کرے گی، وہ اعلان نہ صرف زمینی کنٹرول، انٹیلیجنس فتح، اور دشمن کی پے در پے پسپائی کے ثبوتوں کے ساتھ ہوگا، بلکہ ویسے ہی ہوگا جیسے پچھلے چھ روز سے بی ایل اے نے دشمن کے زیرقبضہ علاقوں کے کنٹرول، تباہ شدہ چوکیاں، اور قبضہ شدہ فوجی سازوسامان کی تصاویر و ویڈیوز اپنے میڈیا چینلز سے جاری کیئے ہیں۔














































