بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے ایک شخص کو پاکستانی فورسز کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گرفتاری کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
لاپتہ ہونے والے شخص کی شناخت پچیس سالہ اسد اللہ ولد ظفر اللہ کرد کے نام سے ہوئی ہے، جو بلوچستان یونیورسٹی میں بی ایس کے طالب علم ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق اسد اللہ کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ سے حراست میں لیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق رات گئے سادہ لباس میں ملبوس افراد، جن کی شناخت سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) کے اہلکاروں کے طور پر کی گئی، ان کے گھر پہنچے اور اسد اللہ کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے بعد سے انہیں کسی تھانے یا متعلقہ ادارے کی جانب سے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی اسد اللہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں کوئی معلومات دی جا رہی ہیں۔
بلوچستان میں اس سے قبل بھی جبری گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرتی آئی ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین اکثر حکام پر غیر قانونی حراست اور ماورائے عدالت اقدامات کے الزامات عائد کرتے ہیں۔


















































