پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زور دیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو فوری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات سے متعلق حالیہ بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل نمائندہ سفیر عاصم افتخار احمد نے دعوی کیا ہے کہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے دہشت گرد پراکسی نے حالیہ دنوں بلوچستان میں 48 بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا۔
عاصم افتخار نے الزام لگایاکہ بیرونی سرپرستی اور غیر ملکی فنڈنگ سے چلنے والے گروہ، جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے شامل ہیں، افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں اور انھیں ’مشرقی ہمسائے‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔
انھوں نے الزام لگایاکہ بلوچستان میں حالیہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 48 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان کی فورسز نے جوابی کارروائی میں بی ایل اے کے 145 ارکان کو ہلاک کیا۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے بلوچستان کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان بھر میں منظم حملوں کا آغاز کیا تھا، اس دوران دیگر سرکاری دفاتر اور پاکستانی فورسز کیمپوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ پولیس تھانوں کو اور جیل کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
بلوچ لبریشن آرمی کے حملوں میں ابتک متعدد پولیس کے اعلیٰ افسران ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں اہلکار کو مسلح افراد نے تحویل میں لے لیا ہے۔
جبکہ نوشکی ، گوادر اور کیچ میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ اور ڈرون حملوں ابتک 25 کے قریب شہری جانبحق ہوچکے ہیں ۔

















































