حالیہ حملوں میں جیلوں سے پچاس سے زائد حساس اور غیر حساس قیدی فرار ہوگئے ہیں۔حکام
بلوچستان حالیہ دنوں متعدد جیلوں پر مسلح افراد کے حملوں کے بعد محکمہ جیل کے حکام نے دیگر جیلوں کی سیکورٹی سخت کردی ہے، جیلوں کی سیکورٹی پر تعینات جیل وارڈانز کو جدید اسلحہ سے لیس کردیا گیا۔
محکمہ جیل حکام نے بتایا کہ حالیہ بی ایل اے حملوں کے دوران مسلح افراد ُ نے سنٹرل جیل مستونگ اور ڈسٹرکٹ جیل نوشکی کو نشانہ بنایا، جس میں موجود چیف جسٹس قتل میں ملوث ملزمان پچاس سے زائد قیدی فرار ہوگئے تھے۔
حکام نے کہا ہے کہ خطرات کے پیش نظر جیلوں کی سیکورٹی پر تعینات اہلکاروں کو جدید اسلحہ دے دیا گیا ہے اور ایف سی سے بھی جیلوں کی سیکورٹی کیلئے مدد مانگی گئی ہے۔
جیل حکام نے مستونگ اور نوشکی کی جیلوں سے قیدیوں کے فرار کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے بلوچ لبریشن آرمی نے بلوچستان بھر میں منظم حملوں کا آغاز کیا تھا، اس دوران دیگر سرکاری دفاتر اور پاکستانی فورسز کیمپوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ پولیس تھانوں کو اور جیل کو بھی نشانہ بنایا تھا۔
بلوچ لبریشن آرمی کے حملوں میں ابتک متعدد پولیس کے اعلیٰ افسران ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں اہلکار کو مسلح افراد نے تحویل میں لے لیا ہے۔



















































