عسکری حکام کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آج کوئٹہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہیں بلوچستان میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور جاری داخلی سلامتی آپریشنز پر تفصیلی آپریشنل بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے کیے گئے حالیہ منظم حملوں، اور فورسز کے ردِعمل پر روشنی ڈالی گئی۔
حکام کے مطابق اس موقع پر ریاست کی رِٹ کو مزید مضبوط بنانے، عوام کے تحفظ اور اہم تنصیبات کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی جواز کے تحت تشدد اور دہشت گردی کو قبول یا درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عسکری حکام کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات اور قربانیوں کو سراہا، جنہوں نے پاکستان مخالف عناصر کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے امن و امان برقرار رکھا۔
بعد ازاں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وزیرِاعلیٰ بلوچستان کے ہمراہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زخمی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے زخمی جوانوں کے بلند حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مادرِ وطن کے دفاع میں ان کی بہادری اور ثابت قدمی کو سراہا۔
واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی شب بلوچستان بھر میں مربوط حملوں کا آغاز کیا تھا۔ آپریشن ہیروف کے تحت کوئٹہ، نوشکی سمیت 12 شہروں میں بیک وقت حملے کیے گئے، جبکہ نوشکی میں بدستور بی ایل اے اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
بلوچ لبریشن آرمی کے مطابق آپریشن ہیروف پانچویں روز جاری ہے ۔ ابتک مختلف علاقوں میں حملوں کی اطلاعات آرہے ہیں ۔ جبکہ آج پانچویں روز بلوچستان بھر میں مواصلاتی نظام بند ہے ، وہاں نوشکی میں صورتحال کشیدہ اور حکومتی دعوؤں کے برعکس شہر مکمل بند ہے ۔
جبکہ نوشکی ، گوادر اور کیچ میں مقامی افراد کے مطابق پاکستانی فورسز کی فائرنگ اور ڈروں حملوں ابتک 24 کے قریب شہری جانبحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں
















































