بلوچستان حملے ، نوشکی کی جیل سے سابق چیف جسٹس کے قتل کے دو ملزم بھی فرار

190

بلوچستان کے سرکاری حکام کے مطابق بلوچستان میں مسلح افراد کی جانب سے اہم سرکاری عمارتوں اور جیلوں پر ہونے والے حملوں کے دوران جیلوں سے فرار ہونے والے درجنوں قیدیوں میں بلوچستان ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس جج محمد نور مسکانزئی کے قتل کے الزام میں گرفتار دو خطرناک قیدی بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان کے دس سے زائد اضلاع میں ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر کے گھروں، دفاتر ، پولیس تھانوں، فورسز کے کیمپوں سمیت اہم سرکاری عمارتوں پر بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے حملے کیے گئے جبکہ نوشکی اور مستونگ کی جیلوں پر بھی حملہ کرکے انہیں توڑا گیا اور وہاں موجود تمام قیدیوں کو فرار کرایا گیا۔

حکام کے مطابق حملہ آور فائرنگ کرکے جیل کے سپرنٹنڈنٹ ایس پی کاشف زمان اور ایک اہلکار کو زخمی کرنے کے بعد جیل کے اندر داخل ہوئے، عملے کو یرغمال بنایا، تالے توڑ کر قیدیوں کو فرار کرایا اور بعد ازاں جیل کو آگ لگا دی۔اسی روز مستونگ میں بھی جیل پر حملہ کیا گیا جہاں سے قیدی فرار ہوئے۔

حکام کے مطابق نوشکی جیل سے 35 جبکہ مستونگ جیل سے 27 قیدی فرار ہوئے جن میں دہشتگردی، قتل، اقدامِ قتل، منشیات، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں گرفتار انڈر ٹرائل اور سزا یافتہ قیدی شامل ہیں۔ مستونگ پولیس کے مطابق مستونگ میں پولیس تھانوں پر حملوں کے دوران پولیس حوالات سے بھی تین قیدی فرار ہوئے۔

بلوچستان پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ نوشکی جیل سے فرار ہونے والوں میں دو خطرناک قیدی شفقت اللہ اور حجاب الرحمان بھی شامل ہیں جنہیں اکتوبر 2022 میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے سابق چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کے قتل سمیت دہشتگردی کے دیگر مقدمات میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

افسر کے مطابق دونوں کو انتہائی خطرناک قیدی قرار دیا گیا تھاجس کے باعث ان کا ٹرائل کھلی عدالت کے بجائے نوشکی جیل کے اندر ہی جاری تھا اور متعلقہ جج جیل جا کر سماعت کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں ملزمان سابق چیف جسٹس کے قتل کے علاوہ خاران میں پولیس تھانوں پر بم حملے، دستی بم حملے اور اسلحہ برآمدگی جیسے مقدمات میں بھی نامزد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس کے قتل کا مقدمہ آخری مراحل میں تھا اور عدالت کی جانب سے جلد فیصلے کا امکان تھا۔

محکمہ جیل خانہ جات کے افسر نے مزید بتایا کہ حالات اس قدر سنگین تھے کہ وہ قیدی بھی جیل سے نکلنے پر مجبور ہوگئے جو شاید فرار نہیں ہونا چاہتے تھے یا سزا اور اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے تھے۔

ان کے مطابق حملہ آوروں نے پوری جیل خالی کرائی اور اسے آگ لگا دی جبکہ شہر میں پولیس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی اور لوگ گھروں میں محصور تھے۔ پولیس تھانے بھی نذر آتش کیے گئے۔

ایف سی اور دیگر اداروں کے دفاتر بھی مسلسل حملوں کی زد میں تھے۔ راستے بند ہونے کے باعث زخمی افسران اور اہلکاروں کو اب تک کوئٹہ بھی منتقل نہیں کیا جا سکا۔

واضح رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی نے ہفتے کی شب بلوچستان بھر میں مربوط حملوں کا آغاز کیا تھا۔ آپریشن ہیروف کے تحت کوئٹہ، نوشکی سمیت 12 شہروں میں بیک وقت حملے کیے گئے، جبکہ نوشکی میں بدستور بی ایل اے اور پاکستانی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔