بلوچستان بھر میں بلوچ لبریشن رمی کے مربوط حملوں نے خطے میں شدید کشیدگی پئیدا کردی ہے، درجنوں ہلاکتیں رپورٹ
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستانی فورسز نے کئی روز کی شدید جھڑپوں کے بعد نوشکی کی تحصیل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن اور متعدد سیکیورٹی تنصیبات پر قبضہ کرلیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق پاکستانی فورسز نے تصدیق کی کہ کارروائی کے دوران ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جبکہ ہفتے کو شروع ہونے والی پرتشدد لہر میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 58 تک پہنچ گئی ہے۔
ہفتے کی صبح بی ایل اے کے مربوط، وسیع اور منظم حملوں نے پورے بلوچستان کو متاثر کیا، جہاں مختلف مقامات پر فورسز اور مسلح افراد کے درمیان گئی دنوں تک جھڑپیں جاری رہیں۔
پاکستانی فورسز حکام نے میڈیا میں اپنے 22 اہلکاروں، 36 شہریوں اور سو سے زائد حملہ آوروں کی مارے جانے کا دعویٰ کیاہے۔
رائٹرز کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے حملوں کا نشانہ بننے والے کوئٹہ کے ایک رہائشی روبینہ علی نے انکے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں ہونے والے حملوں اور بم دھماکوں سے مجھے لگا میرے گھر کی چھت اور دیواریں اُڑ جائیں گی۔
رائٹرز رپورٹ کے مطابق نوشکی جس کی آبادی تقریباً 50 ہزار ہے، میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن اور متعدد سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال کر تین روزہ سے زائد کا محاصرہ قائم کیا۔
نوشکی پولیس حکام نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ جھڑپوں میں سات اہلکار مارے گئے، جبکہ پیر کی رات پاکستانی فورسز نے علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، فورسز ذرائع کے مطابق مزید نفری نوشکی بھیجی گئی اور حملہ آوروں کے خلاف ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔
رائٹرز رپورٹ کے مطابق بی ایل اے نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اُن کے آپریشن “ہیروف” کے دوران انہوں نے 280 پاکستانی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے جبکہ اپنے تیس کے قریب ساتھیوں کی مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔
رائٹرز کو عسکری حکام نے بتایا کہ ہفتے کی صبح 4 بجے نوشکی اور پسنی میں خودکش دھماکوں سے بلوچستان میں حملوں کا آغاز ہوا، جس کے بعد بلوچستان کے 11 سے زائد مقامات پر منظم حملے کئے گئے۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق محاصرے کے دوران مسلح افراد کم از کم چھ ضلعی دفاتر پر قابض رہے اور ایک موقع پر وہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے صرف ایک کلومیٹر کی دوری تک پہنچ گئے۔
پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کی پشت پناہی بھارت کررہا ہے، تاہم کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، بھارت کی وزارتِ خارجہ نے الزام رد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ بلوچ عوام کے دیرینہ مطالبات پر توجہ دے۔
رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق لیفٹیننٹ جنرل امیر ریاض جو 2015 سے 2017 تک بلوچستان میں فوج کے سربراہ رہے کا کہنا ہے کہ گزشتہ دہائی میں بی ایل اے کی مزاحمت زیادہ مربوط اور مؤثر شکل میں تبدیل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم نے افغانستان کو حملوں کے لیے اسٹیجنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال کیا، یے دعویٰ پاکستان کی موجودہ فوجی و حکومتی قیادت بھی کرتی ہے، تاہم افغانستان میں قائم طالبان حکومت اس کی تردید کرتی ہے۔
ریاض کے مطابق یہ تنازعہ وقفے وقفے سے شدت اور جمود کے درمیانی مراحل سے گزرتا رہے گا صورتحال بگڑی ہے اور اب ردعمل فیصلہ کن ہوگا، جس کے نتیجے میں بی ایل اے کی صلاحیت کو سخت دھچکا لگے گا۔
انہوں نے اس کے باوجود کہا کہ بالآخر اس مسئلے کا حل سیاسی عمل اور بہتر حکمرانی ہی کے ذریعے نکل سکتا ہے۔
















































