شمش شاہ کا نعم البدل: سرفراز بگٹی ۔ آفتاب بلوچ

58

شمش شاہ کا نعم البدل: سرفراز بگٹی 

تحریر: آفتاب بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہم اکثر سنتے آئے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ ایسا اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ تاریخ ایک ارتقائی عمل سے گزرتی ہے اور مختلف ادوار میں پرانے تجربات نئی صورتوں میں سامنے آتے ہیں۔ سامراجی یا نوآبادیاتی نظام ہو یا نیا نوآبادیاتی نظام، نظامِ حکمرانی بنیادی طور پر ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ بقولِ کابرال، چاہے نوآبادیاتی نظام ہو یا نو نوآبادیاتی، اس میں مظلوم کی تکالیف، درد اور مصیبتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔

اسی طرح بلوچ کے حصے میں بھی ہمیشہ درد، تکلیف اور مصیبتیں ہی آئی ہیں، چاہے وہ خان محمود خان کی صورت میں ہوں، شمش شاہ، ڈاکٹر عبدالمالک یا سرفراز بگٹی کی شکل میں۔ ان حکمرانوں نے بلوچ کی قسمت میں جبر، ظلم، درد، تکلیف اور مسخ شدہ لاشیں ہی لکھیں۔ ان جیسے لوگوں کی وجہ سے آج تک بلوچ کو چین نصیب نہیں ہوا۔ بلوچ ایک دن بھی امن سے نہیں جی سکے۔

2013 میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کے دوران بلوچستان کے کونے کونے میں بلوچوں کو مسخ شدہ لاشیں تحفے میں مل رہی تھیں۔ بلوچ طلبہ جبراً اغوا کیے جا رہے تھے اور سیاسی کارکنوں کی لاشیں ویرانوں سے ملتی تھیں۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب کسی بلوچ کی مسخ شدہ لاش نہ ملی ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں ایجنسیوں کے افراد تعینات کیے گئے تاکہ بلوچ طلبہ کی نگرانی کی جا سکے اور بعد ازاں انہیں جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا سکے۔ ظالموں نے بلوچ کو بدروچ سے تشبیہ دی تھی، اور کچھ حد تک وہ درست بھی تھے، کیونکہ آج تک بلوچ کے لیے چین و سکون کے دن نہیں آئے۔

بلوچوں کی قسمت میں سب سے پہلے ظلم و جبر کرنے خان محمود خان آیا۔ (خان محمود خان اپنے والد خان خدائیداد خان کی معزولی کے بعد 1893 میں برطانوی حکومت کی حمایت سے مسندِ خانیت پر بیٹھا۔) وہ ایک خرمست اور ظالم حکمران تھا جو انگریزوں کا مسلط کردہ منصوبہ تھا۔ خان محمود خان دہشت اور جبر کے ذریعے سرداروں کو قابو میں رکھ کر حکومت کرتا رہا۔

آج کے دور میں سرفراز بگٹی اسی مسلط کردہ منصوبے کا حصہ نظر آتے ہیں، جو بلوچوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ سرفراز بگٹی کی حکومت ظلم و جبر کے حوالے سے شمش شاہ کے دورِ حکومت سے کسی طور مختلف نہیں۔ بلوچ تاریخ میں ریاستِ قلات کے وزیر اعظم شمش شاہ کا دور سیاہ ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ عوام پر ظلم اپنے عروج پر تھا، جبر کے ذریعے بیگار لی جاتی تھی، بربریت کا راج تھا۔ شمش شاہ کی ایما پر غیر ملکی ملازمین کے ذریعے لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ رشوت اور بخشش کی حدیں پار ہو چکی تھیں۔ برطانوی حکومت اپنے نامزد کردہ وزیر اعظم شمش شاہ کی مکمل سرپرستی کر رہی تھی، کیونکہ وہ ریاستِ قلات میں اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنا رہے تھے۔

آج بلوچستان میں سرفراز بگٹی کو پنجابی سرپرستی کے ذریعے ایک کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کے طور پر مسلط کیا گیا ہے تاکہ وہ من مانی کرے اور پنجاب کی لوٹ مار کو عملی جامہ پہنائے۔ وہ قانونی طور پر وزیر اعلیٰ کے اہل نہیں، مگر چغل خوری اور خوشامد میں مہارت کے باعث اس منصب تک پہنچے۔ وہ چند پنجابی چوہدریوں کو خوش کرنے کے لیے پوری بلوچ قوم کو مشکل میں ڈال سکتا ہے، مگر اپنے پنجابی آقاؤں کو کبھی ناراض نہیں دیکھ سکتا۔ اگر سرفراز بگٹی کسی غیرت مند بلوچ ماں کے گھر پیدا ہوتا تو شاید غیرت ایک لمحے کو اسے ضرور چھو جاتی۔ شمش شاہ پشاور کے بخاری سید گھرانے میں پیدا ہوئے، اور سرفراز بگٹی بھی کسی بلوچ غیرت مند خاندان کا فرد نہیں لگتا۔

شمش شاہ اور سرفراز بگٹی میں ایک مماثلت یہ بھی ہے کہ شمش شاہ نفسیاتی برتری کے مرض میں مبتلا تھا اور دوسروں کو تکلیف پہنچا کر سکون محسوس کرتا تھا۔ اسی طرح سرفراز بگٹی بھی نام نہاد اداروں کو بے گناہ بلوچوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کی اجازت دے کر وقتی سکون حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنے پنجابی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بلوچ نوجوانوں کا خون بہانے اور بلوچ عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔

سرفراز بگٹی کے دورِ حکومت میں رشوت کا بازار بھی گرم ہے۔ اس کے ماتحت ادارے اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ پاکستان کی لوٹ مار کو وہ بلوچستان میں جائز قرار دیتا ہے، جبکہ خود کو بلوچ کہلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا۔

شمش شاہ کے دور میں یوسف عزیز مگسی اور ان کے رفقا ظلم کے خلاف متحرک رہے۔ یوسف عزیز مگسی بلوچوں کے لیے ایک مضبوط آواز بن کر ابھرے، مگر شمش شاہ نے انہیں کوئٹہ کی حدود میں نظر بند کر دیا۔ شمش شاہ کے ظلم کے باعث ہزاروں خاندان جھل مگسی سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان حالات پر پردہ ڈالنے کے لیے شمش شاہ نے میر یوسف عزیز مگسی کے خلاف مقدمہ قائم کیا۔ اس مقصد کے لیے نواب گل محمد زیب، تمندار قبیلہ مگسی، سے حلفیہ بیان لکھوایا گیا جس میں یوسف عزیز مگسی پر مگسی ایجی ٹیشن کی سرپرستی کا الزام لگایا گیا۔

آج سرفراز بگٹی کے دور میں بلوچستان میں ظلم و جبر کی نئی لہر جاری ہے۔ اس جبر کے خلاف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ یوسف عزیز مگسی کی طرح ایک مضبوط چٹان بن کر کھڑی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بلوچستان میں ایک مسیحا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ ظالم و جابر کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آواز بلند کر رہی ہیں۔

سرفراز بگٹی کی نام نہاد جمہوری حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے جمہوری عمل کو غیر جمہوری قرار دے کر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جھوٹے مقدمات میں جیل بھیج دیا، جس کی کئی حلقوں میں مذمت کی گئی۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں فوجی آپریشنز کو پنجابی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے جائز قرار دیا گیا، جن کے نتیجے میں ہزاروں بلوچ خاندان بے گھر ہوئے، مال مویشی چھین لیے گئے، بچے لقمۂ اجل بنے اور بزرگوں و خواتین پر تشدد کیا گیا۔ بے شمار افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوئے، جن میں سے کئی کی مسخ شدہ لاشیں بعد میں ویرانوں سے ملیں، جبکہ ہزاروں آج بھی ٹارچر سیلوں میں اذیتیں سہہ رہے ہیں، جن میں اکثریت طلبہ اور سیاسی کارکنوں کی ہے۔

یہ وہی تاریخ ہے جو آج سرفراز بگٹی کی شکل میں خود کو دہرا رہی ہے۔

خان محمود خان سے لے کر شمش شاہ اور اب سرفراز بگٹی تک، بلوچستان میں ظلم و جبر کا یہ تسلسل جاری ہے، اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک بلوچستان میں آزادی کا نیا سورج طلوع نہیں ہوتا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔