بلوچ آزادی پسند رہنما اور بلوچستان لبریشن فرنٹ ( بی ایل ایف) کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بلوچستان میں جاری بی ایل اے کی آپریشن ہیروف 2 اور آزادی پسندوں کے شہروں میں مزاحمت و مربوط حملوں پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چاپلوس عناصر آزادی کی تحریک اور دہشت گردی میں فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور وہ بلوچ تاریخ سے بھی نابلد ہیں۔
بلوچ رہنما نے ان خیالات کا اظہار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ” ٹروتھ سوشل” میں کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ شال میں “آخری دن کی جنگ” کے دوران آزادی پسندوں کے لیے محبت اور احترام کا عوامی مظاہرہ، ان غلاموں کے لیے چشم کشا ہے جو اپنے آقاؤں کی طرف سے مسلسل بھونکتے ہیں۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ میں پنجابی دانشوروں، وی لاگرز اور مین اسٹریم میڈیا سے عاجزی کے ساتھ گزارش کرتا ہوں کہ چاہے وہ بلوچ آزادی پسندوں کو “دہشت گرد” ہی کیوں نہ قرار دیں، بلوچ قوم اپنے آزادی پسندوں سے پیار کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میدان جنگ میں بھی عوام نے بغیر کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے اپنے ہیروز کو گوادر سے شال تک خوش آمدید کہا۔
انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پنجابی فوج نے گوادر میں خضدار کے ایک ہی خاندان کے 13 افراد کو قتل کیا اور بلوچ شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس میں شال بھی شامل ہے۔ نوشکی میں ایک مسافر وین کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 10 بلوچ شہری ہلاک ہوئے۔ اسی طرح نوشکی میں شہری آبادی پر ڈرون حملوں سے درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ یہ واقعات ریاستی بربریت کی انتہا اور پنجابی فوج کی آخری سانسوں کی علامت ہیں۔ بلوچستان نہ صرف آزادی کی جنگ جیت رہا ہے بلکہ بلوچ قوم کے دل و دماغ بھی جیت چکا ہے۔
















































