بی ایل اے نے آپریشن ھیروف کے چلتے اپنے مزید دو فدائین حملہ آوروں کی تصاویر اور تفصیلات شائع کردیے۔
بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے آفیشل چینل ہکل پر شائع کردہ تفصیلات کے مطابق تنظیم کے مجید برگیڈ یونٹ میں شامل جوڑے نے ہمہ وقت پسنی میں پاکستانی فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا۔
تنظیم کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات میں انہوں نے کہا ہے کہ یاسمہ بلوچ عرف زرینہ اور وسیم بلوچ عرف زربار، میاں بیوی تھے، جن کا تعلق الندور، بلیدہ اور کلہدر، زامران سے تھا۔
بی ایل اے کے مطابق یاسمہ بلوچ 14 فروری 1997 کو الندور، بلیدہ میں پیدا ہوئیں اور 2022 میں بلوچ لبریشن آرمی کی مجید بریگیڈ میں شامل ہوئیں اور وسیم بلوچ 27 اپریل 1992 کو کلہدر، زامران میں پیدا ہوئے، 2014 میں تحریک سے وابستہ ہوئے اور 2022 میں مجید بریگیڈ کا حصہ بنے۔
تنظیم نے اس حوالے سے بتایا کہ انہوں نے ایک ساتھ زندگی گزاری، اس سے پہلے کہ ایک ساتھ آخری مورچہ سنبھالا یاسمہ بلوچ اور وسیم بلوچ، میاں بیوی تھے، انہوں نے پسنی میں قابض فورسز کے کیمپ پر حملے کے دوران ایک ساتھ اپنی جانیں قربان کیں۔
بی ایل اے نے میاں بیوی کے حوالے سے کہا ان کی داستان محض شہادت کی نہیں، بلکہ اس لمحے کی ہے جہاں ذاتی زندگی اور قومی فرض مکمل طور پر یکجا ہو گئیں اور پھرانکا رشتہ، عزم اور مزاحمت کی علامت بن گیا۔
آخر میں انکا کہنا تھا یہ دو فدائین رفاقت کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے اور اس مشترکہ فیصلے پر قائم تھے کہ وہ اپنی سرزمین کی آزادی کے لیئے وہ سب کچھ قربان کردیں گے، جس کا مطالبہ مادرِ وطن کرے گی۔














































