بی ایل اے کا آپریشن ھیرف جاری: پاکستانی وزیرِ دفاع کا بلوچستان میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان

190

بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے، وزیرِ دفاع کا الزام

اسلام آباد میں پاکستانی وفاقی پارلیمنٹ کو وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی ناگزیر ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کا 40 فیصد سے زیادہ رقبہ بلوچستان پر مشتمل ہے، جہاں اوسطاً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک شخص آباد ہے، اور ایسے خطے کو کنٹرول کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

پیر کو پاکستانی قومی اسمبلی میں وزراء کو بریفنگ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں فوج پہلے سے موجود ہے، مگر مزید بڑے پیمانے پر تعیناتی کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں قبائلی عناصر، جرائم پیشہ گروہ اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ موجود ہے جو بلوچ مسلح گروہوں کو تحفظ فراہم کررہا ہے۔

وزیرِ دفاع نے یہ خطاب اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی درخواست پر کیا، جنھوں نے انھیں بلوچستان کی صورتِ حال پر ایوان کو بریفنگ دینے کے لیے کہا تھا۔

اپنے خطاب کے آغاز میں خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان میں امن کی بحالی کئی دہائیوں کے دوران متعدد بار متاثر ہوئی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایک طویل عرصے تک امن قائم رہا اور ترقیاتی کام بھی کیے گئے، وفاقی وزیر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بلوچستان میں شورش کا مسئلہ پاکستان کے قیام سے ہی موجود ہے۔

وزیرِ دفاع نے الزام لگایا کہ بھارت کی سرپرستی یافتہ عناصر بلوچستان میں ’’پراکسی‘‘ کے طور پر سرگرم ہیں اور افغان سرزمین بھی وہاں دہشت گردی کی آگ بھڑکانے کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں حملے کرنے والوں کی قیادت افغانستان میں ہے اور انھیں وہیں سے مدد ملتی ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق یہ گروہ یومیہ تیل کی اسمگلنگ سے چار ارب روپے کما رہے تھے، اور بی ایل اے ان اسمگلرز کو تحفظ فراہم کر رہی تھی، ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں قبائلی عمائدین، بیوروکریسی اور علیحدگی پسند تحریک چلانے والوں کے درمیان گٹھ جوڑ موجود ہے۔

وزیرِ دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو روز کے دوران بلوچستان میں 177 حملہ آور مارے گئے، جبکہ 16 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ بلوچستان حملوں میں دو مقامات پر خواتین کو استعمال کیا گیا، ان کے مطابق گرفتار افراد کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت ملوث ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے انسانی حقوق کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، یہ لاپتا افراد کا معاملہ ایک مکمل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ گھڑا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں یہ ریاستی دفاتر پر حملے کرتے ہیں۔