پاکستان کے سینیئر تجزیہ کار و سینیٹر سید مشاہد حسین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کا وقت نہایت اہم ہے اور یہ صورتحال پاکستان کی معدنیات میں عالمی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوششوں پر براہِ راست اثر انداز ہوکر انھیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ان کے مطابق حملوں کی حساسیت کی تین بنیادی وجوہات ہیں جن میں خطے میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کو اکسائے جانے کی اطلاعات گردش کررہی ہیں۔
ایران کی بلوچستان کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور اس کشیدہ ماحول میں کسی بھی عسکری پیش رفت کا مقصد خطے میں نظام کی تبدیلی اور سوڈان، صومالیہ اور لیبیا جیسے انتشار کی صورتحال پیدا کرنا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا دوسری وجہ پاکستان کے سب سے بڑے معاشی منصوبے پاک چین اقتصادی راہداری کا مرکز گوادر پورٹ ہے، جو علاقائی تجارت و رابطے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، گوادر کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک اہمیت ایسے موقع پر خطرات سے دوچار ہے جب یہ بندرگاہ اپنے توسیعی کردار کے نئے مراحل میں داخل ہورہی ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین نے تیسری وجہ بتاتے ہوئے کہا پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ وہ قیمتی معدنیات جن کا بڑا حصہ بلوچستان میں موجود ہے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں متعارف کرائے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے اگر سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال برقرار رہی تو بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بُری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔
واضح رہے کہ ہفتے کی صبح بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے درجنوں شہروں کو مربوط حملوں میں نشانہ بنایا تھا، بی ایل اے کی جانب سے حملوں کا سلسلہ اتوار کے رات تک جاری ہیں۔
حالیہ حملوں کے بعد پاکستان کے مقامی تجزیہ کاروں اور قانون دانوں کے علاوہ غیر مقامی تجزیہ کار بھی یہیں خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔
امریکی تجزیہ نگار مائیکل کیوگل مین نے بھی کہا ہے بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملے ایک واضح پیغام ہیں، جو امریکہ کو اس امر پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا بلوچستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنا محفوظ ہے یا نہیں۔
امریکی کی جانب سے حالیہ دنوں بلوچستان کے پسنی پورٹ پر سرمایہ کاری کرنے اور بلوچستان کے معدنیات کو استعمال میں لانے کی پاکستانی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئے ہیں، تاہم پاکستان اور امریکہ نے تاحال بہ ضابطہ طور پر سرمایہ کاری کے حوالے تصدیق اور تردید نہیں کی ہے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں کے بعد یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ کاروباری ماحول اور سرمایہ کاری کے طور طریقے پہلے جیسے نہیں رہے، اور اب پالیسی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔















































