امریکی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات وائٹ ہاؤس کو اس امر پر غور کرنے پر مجبور کریں گے کہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کرے یا نہیں۔
تجزیہ کار مائیکل کیوگل مین نے بلوچستان میں بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ہیروف کے دوسرے مرحلے کے تحت ہونے والے مربوط حملوں پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے امریکی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کریں گے۔
مائیکل کیوگل مین کے مطابق بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملے ایک واضح پیغام ہیں، جو امریکہ کو اس امر پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا بلوچستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کرنا محفوظ ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے تجزیے کے مطابق بلوچ آزادی پسندوں کے حملے ان قدرتی وسائل اور متعلقہ سرمایہ کاری کے ممکنہ خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جن کے باعث بیرونی سرمایہ کاروں کو محتاط رہنا چاہیے۔
اسی طرح دیگر علاقائی تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ بلوچ مسلح گروہ ان حملوں کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ممالک کی اُن کمپنیوں خصوصاً چین کو پیغام دے رہے ہیں جو بلوچستان کے معدنی وسائل میں سرمایہ کاری کے معاہدے کرتی ہیں کہ ان کی رضامندی کے بغیر سرمایہ کاری محفوظ نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ایک برطانوی جریدے نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کی ٹرمپ حکومت سے بڑھتی قربت کے تناظر میں پاکستانی فوجی قیادت کی جانب سے امریکہ کو بلوچستان کے معدنی وسائل تک رسائی دینے کی ایک ڈیل بھی زیر غور تھی۔
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر کے قریبی حلقوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی میں 1.2 ارب ڈالر کی لاگت سے نئی بندرگاہ کی تعمیر کی تجویز دی ہے، جسے ریل رابطوں کے ذریعے بلوچستان کے اندرونی علاقوں میں موجود تانبے اور اینٹی مونی کے ذخائر سے منسلک کیا جانا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تجویز چین کے زیرانتظام گوادر پورٹ کے مقابلے میں امریکہ کو ایک متبادل رسائی دینے کے لیے تیار کی گئی تھی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ منصوبہ باضابطہ حکومتی پالیسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ فوجی حلقوں نے اسے امریکی حکام کے ساتھ نجی یا غیر رسمی بات چیت میں پیش کیا تھا، تاہم پاکستانی حکومت نے اس رپورٹ کو اس وقت مسترد کردیا تھا۔
واضح رہے کہ چین نے 2015 میں پاکستان کے ساتھ 60 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے سی پیک منصوبے کا آغاز کیا تھا، جس کا مرکزی نقطہ بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر تھا، تاہم سی پیک کے آغاز سے اب تک بلوچ آزادی پسند درجنوں چینی منصوبوں اور سرمایہ کاروں کو حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔
بلوچستان کے سیاسی اور مسلح حلقے غیر ملکی سرمایہ کاری کو بلوچ عوام کی مرضی اور منشا کے بغیر قرار دیتے ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی آبادی کی شمولیت نہ ہونے کے باعث چین کو گوادر منصوبوں میں بھاری نقصان کا سامنا ہے، جو پاکستان کے لیے بھی شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔















































