بلوچستان میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

126

حکومتِ بلوچستان نے ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے یکم فروری 2026ء کو جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، حکومت نے ضابطہ فوجداری 1898ء کی دفعہ 144 کی ذیلی دفعہ (6) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر پورے صوبے میں ہوگا اور یہ احکامات ایک ماہ تک نافذ العمل رہیں گے۔

حکم نامے کے مطابق جن امور پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں اسلحہ کی نمائش یا استعمال، موٹر سائیکل پر ڈبل سواری، گاڑیوں پر کالے شیشوں کا استعمال، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا استعمال، پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، دھرنے، جلوس اور ریلیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ مفلر، ماسک یا کسی بھی ایسے ذریعے کا استعمال جو شناخت میں رکاوٹ بنے، ممنوع ہوگا۔

صوبائی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صوبے میں امن و امان کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کو روکنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری حکم نامے کی نقول متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں جن میں بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار، وزیر اعلیٰ اور گورنر بلوچستان کے پرنسپل سیکریٹریز، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان، فرنٹیئر کور، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے گزشتہ روز بلوچستان بھر میں اپنے“آپریشن ہیروف فیز ٹو“ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں اور پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔