بلوچستان میں مربوط حملے: آئی ایس پی آر کا 18 شہری، 15 اہلکار اور 92 مسلح حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعویٰ

82

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں یکم فروری کو مختلف اضلاع میں ہونے والے مربوط حملوں اور بعد ازاں کی جانے والی کارروائیوں میں 18 شہری اور 15 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 92 مسلح حملہ آور مارے گئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جن اضلاع میں حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں اُن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی شامل ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حملوں کا آغاز 31 جنوری کی صبح ہوا تھا۔

پاکستانی فوجی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر ردعمل دیتے ہوئے کلیئرنس اور حفاظتی کارروائیاں کیں، جن کے دوران 92 شدت پسند ہلاک ہوئے، جن میں تین خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔

کارروائیوں کے دوران مسلح جھڑپوں اور مقابلوں میں 15 سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں کی جانے والی کارروائیوں میں مزید 41 مسلح افراد مارے گئے تھے، جس کے بعد دو روز کے دوران آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر مارے گئے حملہ آوروں کی تعداد 133 ہو گئی ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، جبکہ حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری میں ملوث عناصر کی نشاندہی کے لیے تحقیقات بھی تیزی سے جاری ہیں۔

فوجی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق حملوں میں بیرونی عناصر کی معاونت اور رابطوں کے شواہد ملے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے فریم ورک کے تحت شدت پسندی کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

واضح رہے کہ آج صبح بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے آپریشن ھیروف کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے بلوچستان کے 14 اضلاع کو بیک وقت مہلک حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جن میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور گوادر کے سخت سیکیورٹی زون بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مسلح افراد نے نوشکی، خاران، کیچ اور دیگر علاقوں میں پاکستانی فورسز اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

بلوچ لبریشن آرمی نے آپریشن ھیروف کے تحت ہونے والے حملوں میں اب تک اپنے سات ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ پندرہ گھنٹے سے جاری حملوں میں بی ایل اے نے 84 اہلکاروں کی ہلاکت اور 18 کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بی ایل اے کے حملوں میں اب تک ایک پولیس ڈی ایس پی، ایک ایس ایچ او کی ہلاکت اور ایک پولیس انسپیکٹر کے اغوا کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔