بلوچ جلاوطن رہنما مہران مری نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچستان کی صورتحال انتہائی سنگین مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بیان انہوں نے بی ایل اے کے آپریشن “ہیروف” کے دوسرے مرحلے کے دوران دیا جہاں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے درجن سے زائد شہروں میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مہران مری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بلوچ قوم گزشتہ ستر برسوں سے عالمی برادری سے اپیلیں کرتی آ رہی ہے، مگر اب بلوچستان اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ آزادی کسی بیرونی طاقت کی جانب سے تحفے میں نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ نہ کسی ٹرمپ” کے منتظر ہیں اور نہ ہی کسی اور عالمی طاقت کے سہارے پر انحصار کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بلوچ قوم اپنے حقوق اور اپنی مادرِ وطن کو اپنی ہی قوت کے ذریعے حاصل کرے گی، بچوں سے لے کر بزرگوں تک، پوری بلوچ قوم اس جدوجہد پر متفق ہے اور یہ ایک قومی آزادی کی تحریک بن چکی ہے۔
مہران مری نے مزید کہا کہ پاکستان ایک غیر مستحکم ریاست ہے جو کبھی چین اور کبھی امریکہ کے سائے میں رہتی ہے، جبکہ بلوچ قوم اپنے حق اور اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے خود میدان میں کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اپنی آزادی کسی کے “دامن” سے نہیں بلکہ اپنی جدوجہد اور قربانیوں کے ذریعے حاصل کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک قوم کی حیثیت سے بلوچوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی مادرِ وطن کا دفاع کریں اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں۔















































