آپریشن ھیروف: دس گھنٹوں میں دشمن کے 84 اہلکار ہلاک، 18 گرفتار، 7 سرمچار شہید – بی ایل اے

515

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہاہےکہ آپریشن ھیروف فیز ٹو کے تحت سرمچاروں نے بلوچستان کے ۱۴ شہروں میں ۴۸ مختلف مقامات پر منظم حملے کیئے، جہاں گزشتہ دس گھنٹوں سے سرمچاروں کا مضبوط کنٹرول بدستور قائم ہے۔ کوئٹہ، نوشکی، مستونگ، دالبندین، قلات، خاران، پنجگور، گوادر، پسنی، تربت، تمپ، بلیدہ، منگوچر، لسبیلہ، کیچ اور آواران میں دشمن کے عسکری، انتظامی اور سیکورٹی ڈھانچوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض پاکستانی فوج، پولیس، خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کے مجموعی طور پر ۸۴ اہلکار ہلاک، درجنوں زخمی اور ۱۸ اہلکار زندہ گرفتار کیئے گئے ہیں، جو اس وقت بلوچ لبریشن آرمی کی تحویل میں ہیں۔ سرمچار قابض فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد چوکیاں کنٹرول میں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان مقامات پر مضبوط پوزیشن برقرار ہے۔ مختلف شہروں میں دشمن کی نقل و حرکت شدید محدود ہو چکی ہے، جبکہ سرمچاروں نے اہم پوائنٹس پر اپنی موجودگی مستحکم رکھی ہوئی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ آپریشن کے دوران ۳۰ سے زائد سرکاری املاک کو کنٹرول میں لے کر تباہ کیا گیا، جن میں بینک، سرکاری دفاتر اور جیل شامل ہیں۔ اس کے ساتھ دشمن کی ۲۳ سے زائد گاڑیوں کو نذرآتش کیا گیا ہے۔ متعدد شہروں میں انتظامی ڈھانچوں پر براہِ راست دباؤ کے باعث دشمن کے روزمرہ امور اور فیصلہ سازی مفلوج ہوچکی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں فوج اور پولیس کو پسپا ہوکر دفاعی پوزیشن اختیار کرنی پڑی ہے۔

مزید کہاکہ ان کارروائیوں کے دوران بلوچ لبریشن آرمی کے ۷ سرمچار شہید ہوئے جن میں ۴ فدائی سرمچار شہید شامل ہیں، جنہوں نے دشمن کے کیمپوں کے اندر داخل ہوکر قابض فورسز کو نشانہ بنایا۔ شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں دشمن کے حساس عسکری مراکز کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کیا گیا، جہاں کئی مقامات پر لڑائی کے بعد پوزیشن مستحکم کی گئی ہے۔ ان قربانیوں نے آپریشن کی رفتار اور اثر کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آپریشن ھیروف فیز ٹو میں بلوچ لبریشن آرمی کے مختلف یونٹس منظم اور مربوط انداز میں شریک ہیں۔ فتح اسکواڈ، مجید بریگیڈ، انٹیلی جنس ونگ زراب اور ایس ٹی او ایس نے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ مختلف شہروں اور علاقوں میں پیش قدمی کی ہے، جس کے نتیجے میں دشمن کے متعدد ڈھانچوں کو ایک ہی وقت میں دباؤ میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس مرحلے میں بلوچ عوام کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔ تمام شہروں اور علاقوں میں بلوچ عوام نے سرمچاروں کی بھرپور مدد کی، جس کے نتیجے میں نقل وحرکت، مواصلات اور زمینی کنٹرول کو مؤثر طور پر برقرار رکھا گیا۔ عوامی حمایت نے دشمن کے پروپیگنڈے، دباؤ اور خوف کی فضا کو ناکام بنادیا اور سرمچاروں کی کامیابیوں کو یقینی بنایا۔ یہی عوامی یکجہتی آپریشن کے مسلسل جاری رہنے اور کنٹرول کے برقرار رہنے کا بنیادی سبب بنی ہے۔

آخر میں کہاکہ یہ بیان ابتدائی تفصیلات پر مبنی ہے۔ آپریشن ھیروف فیز ٹو بلوچستان کے مختلف حصوں میں تادم تحریرمسلسل جاری ہے اور زمینی صورتحال کے مطابق اعداد و شمار میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حتمی تفصیلات، نقصانات اور دیگر پہلوؤں سے متعلق معلومات مناسب وقت پر میڈیا کے ذریعے جاری کی جائیں گی۔ بلوچستان کے طول و عرض میں اس وقت سرمچاروں کا مضبوط کنٹرول بدستور قائم ہے اور دشمن کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔