پولیس نے کتاب اسٹال قائم کرنے پر بلوچ طلباء کو گرفتار کرلیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نصیر آباد زون کی جانب سے قائم کردہ کتاب کاروان کے تحت کتاب اسٹال پر پولیس کا چھاپہ کتاب ضبط کئے جانے اور طلباء کی گرفتاری کا واقعہ پیش آیا تھا۔
پولیس نے کئی گھنٹوں بعد گرفتار طلباء کو رہا کردیا ہے جبکہ طلباء کے کتاب اسٹال سے ضبط کئے گئے کتابیں بھی واپس کردئے گئے ہیں۔
رہا ہونے والے طلباء کے مطابق وہ معمول کے مطابق ایک کتاب اسٹال لگا کر لوگوں کو پاکستان کے رجسٹرڈ اشاعتی اداروں کی شائع کردہ فراہم کررہے تھے جس دوران ایس ایچ او ڈیرہ مراد جمالی پولیس غلام علی کنڑرانی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور اسٹال پر موجود کتابوں کو اٹھا کر پولیس گاڑی میں ڈال دیا اور انھیں گرفتار کرلیا۔
طلباء کو آٹھ گھنٹے پولیس تحویل میں رکھنے کے بعد بالا آخر رہا کردیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہرسال کے شروعات میں بلوچستان بھر میں کتاب کاروان کے تحت بک اسٹال قائم کئے جاتے ہیں، تاہم ہر بار انھیں پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
ڈیرہ مراد جمالی میں ساتھیوں کی گرفتاری کے حوالے تنظیم نے کہا ہے واقعہ محض ایک کتاب اسٹال کے خلاف کارروائی نہیں، بلکہ بلوچستان میں تعلیم، شعور اور فکری سرگرمیوں کے خلاف ایک تشویشناک رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ کتاب اور قلم سے خوف رکھنے والی ریاستیں کبھی مضبوط نہیں ہوتیں، جبکہ علم و آگاہی ہی معاشروں کی ترقی کی بنیادی ستون ہوتے ہیں۔

















































