کراچی سے مصنف و سماجی کارکن زاہد بلوچ کی گمشدگی پر ایچ آر سی پی کا اظہارِ تشویش

35

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے مصنف اور سماجی کارکن زاہد بلوچ کی گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق زاہد بلوچ کو 27 جنوری 2026 کی علی الصبح کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر اغواء کیا گیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آ سکی۔

ایچ آر سی پی کو ایک اہلِ خانہ کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت کے مطابق نقاب پوش افراد نے زبردستی زاہد بلوچ کے گھر میں داخل ہو کر انہیں اپنے ساتھ لے گئے، جبکہ واقعے کے بعد سے ان کی موجودگی کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے زاہد بلوچ کی سلامتی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فرد پر کسی جرم کا الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، نہ کہ جبری طور پر لاپتہ کیا جائے۔ ایچ آر سی پی نے سندھ کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر زاہد بلوچ کو تلاش کریں، ان کی موجودگی ظاہر کریں اور معاملے میں قانون کے مطابق سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔