نصیرآباد میں غیرت کے نام پر خاتون سمیت دو افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق نصیرآباد تمبو باباکوٹ پولیس تھانے کی حدود گوٹھ محمد شہی فتح آباد میں مبینہ طورپر سیاہ کاری کے الزام میں ایک خاتون اور مرد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا اور ملزمان فرار ہوگئے۔
پولیس نے لاشیں قبضے میں لیکر ہسپتال پہنچاکر ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیں اور مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے کئی اضلاع میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر اقدامات سامنے نہیں آ سکے۔
سال 2025 میں عورت فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2019 سے 2024 کے دوران غیرت کے نام پر قتل کے 212 واقعات رپورٹ ہوئے۔
سال 2019 میں 52 افراد، 2020 میں 51 افراد، 2021 میں 24 افراد، جبکہ 2022 میں 28 افراد غیرت کے نام پر قتل کیے گئے، سال 2023 میں بھی یہ تعداد 24 رہی، جبکہ سال 2024 میں 33 افراد، بالخصوص خواتین، غیرت کے نام پر قتل ہوئیں۔ 2025 اور رواں سال کے اعداد و شمار تاحال شامل نہیں کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران ضلع نصیر آباد میں غیرت کے نام پر قتل کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ جعفر آباد، جھل مگسی، مستونگ، کچھی، کوئٹہ، قلات، صحبت پور، لورالائی اور خضدار بھی متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں۔
رپورٹ میں اس امر پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ زیادہ تر کیسز میں ملزمان گرفتار نہیں ہوتے یا پھر قانونی کارروائیاں مکمل نہیں ہو پاتیں، عدالتوں میں مقدمات کی سست روی، پولیس کا عدم تعاون، اور سیاسی و قبائلی دباؤ ان معاملات میں انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
















































