شکارپور کے قریب جعفر ایکسپریس پر حملہ، بی آر جی نے ذمہ داری قبول کر لی

28

سندھ کے ضلع شکارپور کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

ریلوے حکام کے مطابق شکارپور کے قریب ریلوے ٹریک پر ہونے والے دھماکے کے باعث جعفر ایکسپریس کی دو بوگیاں پٹری سے اتر گئی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹرین سروس متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر ایک مہلک حملہ کیا گیا تھا، جس میں ٹرین کو ہائی جیک بھی کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد جعفر ایکسپریس کو سخت سکیورٹی میں سفر کے لیے روانہ کیا جاتا ہے۔

چند روز قبل وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس کی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا تھا اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس بی کے سی بوگی کو ایک مؤثر اقدام قرار دیا تھا۔

حنیف عباسی نے فول پروف سکیورٹی انتظامات پر فوج اور ایف سی بلوچستان نارتھ کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ جعفر ایکسپریس کو محفوظ، پُراعتماد اور تسلی بخش بنا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے ٹریکس کی 24 گھنٹے نگرانی، جدید کیمروں کی تنصیب اور ٹرین میں مناسب سکیورٹی اسٹاف کی دستیابی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ تاہم، آج ہونے والے ایک اور حملے کے بعد ٹرین سروس ایک بار پھر معطل ہو گئی ہے۔

دوسری جانب بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کے ترجمان دوستین بلوچ نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سرمچاروں نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو شکارپور اور جیکب آباد کے درمیان واقع شہر سلطان کوٹ کے مقام پر آئی ای ڈی نصب کر کے ریموٹ کنٹرول دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا۔

ترجمان کے مطابق ٹرین کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکار سفر کر رہے تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے، جبکہ ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر کر الٹ گئیں۔

بیان کے آخر میں کہا گیا کہ بی آر جی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے اور بلوچستان کی آزادی تک اس نوعیت کے حملے جاری رہیں گے۔