سلامانکا کے میئر سیزر پریئتو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ شہر میں جاری ’’جرائم کی لہر‘‘ کا حصہ ہے اور صدر کلاڈیا شین بام سے تشدد پر قابو پانے کے لیے مدد کی اپیل کی۔
پریئتو نے کہا، ”یہ واقعہ اس تشدد کی لہر میں اضافہ کرتا ہے جس کا ہمیں ریاست اور خاص طور پر سلامانکا میں سامنا ہے۔ بدقسمتی سے جرائم پیشہ گروہ حکام کو زیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وہ اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
ان کے مطابق حملہ آور فٹبال میچ کے اختتام پر میدان میں داخل ہوئے۔
تحقیقات جاری
پریئتو نے کہا کہ حملے کا محرک فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے کم از کم 100 خول جمع کیے ہیں۔
ریاست گواناخواتو کے اٹارنی جنرل کے دفتر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور علاقے میں سکیورٹی بہتر بنانے، عوام کے تحفظ اور ملزمان کو پکڑنے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کیا جا رہا ہے۔
میئر نے فیس بک پر کہا، “ذمہ داروں کو تلاش کر لیا جائے گا۔‘‘
گواناخواتو ایک مقبول سیاحتی مقام اور صنعتی مرکز ہے، تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ میکسیکو کی سب سے زیادہ ہلاکتوں والی ریاست بھی ہے، جس کی وجہ مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان لڑائیاں ہیں۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نےاس سال کے آغاز میں کہا تھا کہ 2025 میں ملک میں قتل کی شرح ایک دہائی کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جو ان کی حکومت کی قومی سلامتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
حکومت کے مطابق 2025 میں قتل کی شرح 17.5 فی ایک لاکھ آبادی رہی، جو 2016 کے بعد سب سے کم ہے، تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ملک میں تشدد کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔


















































