بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قوم کو قبضہ گیر پاکستانی ریاست کی طرف سے انتہائی مربوط طریقہ سے کئی دہائیوں سے نسل کشی کا سامنا ہے جہاں بلوچ قوم مجموعی طور پر ظلم و جبر کا شکار ہے۔
ترجمان نے کہا بلوچ قوم کے سیاسی رہنماؤں کی قتل، جبری گمشدگیاں، قومی شناخت کو مسخ کرنا، ثقافت کو نظرانداز کرنا، بلوچ قوم کے زبانوں کو ختم کرنا و تاریخ کو مسخ کرنا، معاشرتی روایات کو پامال کرنا، معاشرے میں بدعنوانی و جرائم کو عام کرنا، لوگوں کو ذہنی طورپر مفلوج کرنا و خوف کے سائے میں جینے پر مجبور کرنا، ان کو معاشی طور پر محروم رکھنا اور ماحولیاتی آلودگی کو عام کرنا سمیت دیگر عوامل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ قوم کی قدرتی ارتقاء کو روک کر ان سے وابستہ ہرچیز کو مسخ کیا گیا ہے، لوگوں کی قتلِ عام سے لیکر ثقافت و شناخت کو مسخ کرنے تک قبضہ گیر پاکستانی ریاست انتہائی مربوط انداز میں سرانجام دے رہی ہے۔
ترجمان نے کہا ریاستی ادارے ان تمام جرائم کو چھپانے کی خاطر نسل کشی کو مزید عام کررہے ہیں جس سے یہ مزید تیز ہوگئی ہے اور بلوچوں کی سیاسی نمائندگی کو پابندیوں کا سامنا ہے۔
انکا کہنا تھا روزانہ کی بنیاد پر بلوچ قوم کی فرزندوں کی جبری گمشدگیاں و ان کی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنا اب پاکستانی فوج نے بلوچستان میں عام کیا ہے، بلوچ نسل کشی کا ایک واضح ثبوت پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچستان میں 90 ہزار فوجی آپریشنز کرنے کا بیان ہے جہاں وہ خود اعتراف کررہا ہے جس سے یہی ثابت ہوتی ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست کیسے سنگین انسانی جرائم میں ملوث ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ بلوچ قوم کی اس نسل کشی کو عالمی سطح پر توجہ حاصل نہیں رہی اس کی وجہ بلوچستان میں میڈیا بلیک آوٹ ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہیں، بلوچستان میں صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں جبکہ وہاں موجود صحافیوں کو مختلف پابندیوں کا سامنا ہے جہاں کئی صحافیوں کو پاکستانی فوج نے قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی ہیں۔
شولان بلوچ نے مزید کہا ہے کہ سال 2014 پچیس جنوری کو جہاں خضدار کے علاقے توتک میں اجتماعی قبروں سے بلوچ فرزندوں کی 169 لاشیں برآمد ہوئی، یہ وہی فرزند تھے جنہیں پاکستانی فوج نے مختلف اوقات سے بلوچستان کے مختلف علاقوں سے جبری گمشدہ کیے تھے۔ اسی دن کی نسبت بلوچ قوم پچیس جنوری کو اپنی قومی نسل کشی کے دن کے طورپر یاد کرتی ہے۔
یہ دن قومی طور پر ہم پر جاری ظلم و جبر کو آشکار کرتی ہے اور ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہماری قومی وجود خطرے میں ہے اور پاکستانی جابر ریاست ہماری وجود کو ختم کرنے میں آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔
ترجمان نے آخر میں کہا بلوچ قوم اس دن کو یاد کرکے قابض پاکستانی ریاست کی مظالم کے آگے سر جکانے کے بجائے اس کے خلاف اٹھ کر مزاحمت کرے اور اس غلامی کی ناسور مرض کو جڑ سے ختم کرنے میں اپنی قومی زمہ داری نبھائے۔
















































