یومِ بلوچ نسل کشی پر بی وائی سی کی پمفلٹ جاری، بلوچستان بھر میں تقسیم

23

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی ) نے 25 جنوری کو یومِ بلوچ نسل کشی کے طور پر مناتے ہوئے ایک تفصیلی پمفلٹ بلوچستان بھر میں تقسیم کیا ہے، جس میں تنظیم نے کہا ہے کہ بلوچ قوم دہائیوں سے “کثیر الجہتی نسل کشی” کا سامنا کر رہی ہے۔

پمفلٹ میں اس عمل کو بین الاقوامی قوانین، بشریاتی تحقیق اور سیاسیات کے اصولوں کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

پمفلٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے 1948 کے Genocide Convention میں نسل کشی کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ کسی قوم، نسل یا مذہبی گروہ کو جان بوجھ کر تباہ کرنے کے لیے قتل، اذیت، شناخت مٹانے یا ایسے حالات پیدا کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں جن سے اس گروہ کا وجود ختم ہو جائے۔ اسی طرح ماہرینِ بشریات کے مطابق “سماجی موت”یعنی زبان، ثقافت، روایات اور اجتماعی یادداشت کا خاتمہ بھی نسل کشی کی ایک شکل ہے۔

پمفلٹ میں سیاسیات کی تعریف بھی شامل کی گئی ہے جس کے مطابق ریاستی اداروں کے ذریعے کسی مخصوص گروہ کو سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر کمزور کرنا نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پمفلٹ میں کہا ہے کہ بلوچستان میں نسل کشی کے تمام بین الاقوامی اشارے بیک وقت موجود ہیں۔ جن میں جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، ٹارگٹ کلنگ، صحت و تعلیم کی زبوں حالی، منشیات کا پھیلاؤ، وسائل اور زمین پر ریاستی کنٹرول ، زبان، ثقافت اور شناخت کو کمزور کرنے کی پالیسیاں شامل ہیں۔

پمفلٹ میں کوہ سلیمان اور رخشان کے علاقوں میں کینسر اور ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ، سڑک حادثات، روزگار کی بندش اور تخلیقی افراد کی ہلاکتوں کو بھی “خاموش نسل کشی” کے عوامل قرار دیا گیا ہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی معدنیات، ساحلی وسائل اور زرعی پیداوار سے مقامی آبادی کو وہ حقوق حاصل نہیں جو ملک کے دیگر علاقوں میں زمین مالکان کو ملتے ہیں۔

تنظیم کے مطابق یہ معاشی محرومی بلوچ قوم کی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پمفلٹ میں بلوچ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ “خاموشی کے بجائے بیداری” کا راستہ اختیار کریں اور اپنی شناخت، تاریخ اور زمین کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ “باز کے سامنے کبوتر آنکھیں بند کر کے نہیں بچ سکتا۔ بلوچ قوم کو اپنی بقا کے لیے سیاسی مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں۔”