چین سے تجارتی معاہدے کی صورت میں 100 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی

17

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا کے وزیرِاعظم چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتے ہیں تو امریکا کینیڈا کی تمام مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر سنیچر کے روز ایک پیغام میں کہا کہ ’اگر کینیڈا چین کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کرتا ہے تو فوری طور پر امریکہ میں آنے والی تمام کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔‘

حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ اور کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی کے درمیان کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا کہ جب کارنی نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک تقریر کی جس میں انھوں نے دنیا کی بڑی طاقتوں کے خلاف مؤقف اختیار کیا۔

اسی دوران انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس میں دونوں ممالک نے الیکٹرک گاڑیوں سمیت کئی شعبوں میں تجارتی معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کے روز ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں کینیڈا کے وزیرِاعظم کو ’گورنر کارنی‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ انھوں نے لکھا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کینیڈا کو چین کی مصنوعات امریکا میں بھیجنے کے لیے ایک ’ڈراپ آف پورٹ‘ بنایا جا سکتا ہے، تو یہ ان کی سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔

واضح رہے کہ 16 جنوری 2026 کو چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی کے درمیان بیجنگ میں اہم ملاقات کے بعد تجارتی معاہدے کے تحت محصولات میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے چین نے کینیڈین کینولا آئل پر محصولات 85 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے کا اعلان کیا جو یکم مارچ سے نافذ ہوگا جبکہ کینیڈا نے چینی برقی گاڑیوں پر محصولات کو 6.1 فیصد پر مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔

یہ معاہدہ برسوں سے جاری کشیدہ تعلقات اور ایک دوسرے پر جوابی محصولات کے بعد ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

چینی صدر شی نے اسے تعلقات میں موڑ قرار دیا جبکہ تقریباً ایک دہائی بعد چین کا دورہ کرنے والے پہلے کینیڈین رہنما وزیرِاعظم کارنی کے لیے بھی یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

مارک کارنی طویل عرصے سے کینیڈا کی تجارت کو اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار امریکہ پر انحصار کرنے سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کوشش اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار بدلتی ہوئی محصولات کی پالیسی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

چین اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ نہ صرف محصولات میں کمی کا باعث بنا ہے بلکہ اس سے کینیڈا میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔