بلوچستان بار کونسل کی اسلام آباد پولیس کی جانب سے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کی گرفتاری کی شدید مذمت، کل بلوچستان بھر میں عدالتی بائیکاٹ کا اعلان
بلوچستان بار کونسل نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے سینئر وکیل اور معروف انسانی حقوق کی رہنما ء ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور انکے شوہر ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔
بار کونسل کے وائس چیئرمین جاڑین دشتی ایڈووکیٹ جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ محترمہ ایمان مزاری کی گرفتاری آئینِ پاکستان، قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، ایک جمہوری ریاست میں کسی وکیل اور انسانی حقوق کے محافظ کو اس کے آئینی کردار اور اظہارِ رائے کی بنیاد پر گرفتار کرنا پولیس گردی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اختلافِ رائے کو بزور طاقت دبانے کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایمان مزاری ایڈووکیٹ آئین، فیئر ٹرائل، ڈیو پراسیس اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک توانا اور متحرک آواز ہیں، اور ان کی گرفتاری دراصل آزاد وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ ہے۔
اس اقدام سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ریاستی ادارے تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بلوچستان بار کونسل نے اسلام آباد پولیس اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ محترمہ ایمان مزاری کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف کی جانے والی غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور آئندہ وکلا اور انسانی حقوق کے محافظوں کو ہراساں کرنے سے باز رہا جائے۔
بار کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ غیر آئینی اقدام واپس نہ لیا گیا تو وکلا برادری خاموش نہیں رہے گی اور ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور احتجاج اور مزاحمت کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
اسی سلسلے میں بلوچستان بار کونسل نے اعلان کیا ہے کہ کل 24 جنوری 2026 کو پورے بلوچستان میں عدالتوں کے بائیکاٹ کیا جائے گا۔

















































