وہ باپ جو خاموشی میں بولتا رہا، ماسٹر اقبال کمپیوٹر کی کہانی – اسد بلوچ

39

وہ باپ جو خاموشی میں بولتا رہا، ماسٹر اقبال کمپیوٹر کی کہانی

تحریر: اسد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

نومبر 2023 میں تربت کے شہید فدا چوک پر بالاچ مولا بخش نامی نوجوان کے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج جاری تھا۔ ایسے میں ایک دن ایک لاغر بدن شخص، سینے سے لگائے ایک پوسٹر لیے، اچانک منظر پر ابھرا۔ اس پوسٹر پر ایک خوبرو جوان کی تصویر سجی تھی۔ تصویر سینے سے چمٹائے یہ شخص اپنی نام نہاد مردانہ غیرت ایک طرف رکھ کر ایک باپ بن گیا تھا، میڈیا اور عام لوگوں کے سامنے چیختا رہا، چلاتا رہا، روتا رہا اور یوں ایک الگ ہی داستان سنا گیا۔

شروع سے بالاچ مولا بخش کی میت کے ساتھ کئی دنوں تک جاری اس احتجاج میں ماسٹر اقبال کبھی نمایاں نظر نہیں آئے تھے۔ جب ان کا ضبط جواب دے گیا تب معلوم ہوا کہ ماسٹر اقبال کمپیوٹر اول روز سے وہاں موجود تھے۔ ان کے پاس ایک کاغذ کے سادہ فریم میں سجی ایک خوبرو جوان کی تصویر تھی جو اب ایک پوسٹر بن چکی تھی اور یہ تصویر ان کے جوان سال بیٹے عدیل کی تھی۔

عدیل اقبال، جو سوزوکی گاڑی چلا کر گھر کی کفالت اور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم بہنوں کے اخراجات والد کی تنخواہ کے ساتھ مل کر اٹھا رہا تھا اچانک 8 مارچ 2023 کو تربت شہر میں اسکول کی بچیوں کو ڈراپ کرنے کے بعد یوں لاپتہ ہوا کہ اس کا سراغ ملنا مشکل ہوگیا۔ عدیل کے ساتھ اقبال کمپیوٹر کا بینک سے لیے گئے قرض پر خریدا گیا بولان سوزوکی بھی برسرِ زمین ناپید ہوگیا۔ دو دن بعد کسی نے اقبال اور ان کی فیملی کو خبر دی کہ عدیل کو سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدہ ہوتے دیکھا گیا ہے۔

اب عدیل غائب تھا۔ اپریل میں اطلاع ملی کہ ماسٹر کا دوسرا جوان سال بیٹا قتل کردیا گیا ہے۔ غموں سے نڈھال ماسٹر اقبال کی جوانی یکلخت ضعیفی میں بدل گئی۔ خوش مزاج اقبال سماج سے کٹنے لگے، محفلوں کی جان کہلانے والا کمپیوٹر سہمے سہمے مکمل سکوت میں چلا گیا۔ گھر میں بھی ضرورت کے بغیر بات چیت بند، ہنسی ناپید اور زندگی ایک اجنبی بوجھ بن گئی۔ ماسٹر ایک عجیب کیفیت کا شکار ہوگئے تھے۔

اسی دوران نومبر 2023 آیا جب پہلے سے زیر حراست بالاچ مولا بخش نامی نوجوان کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا اور اس قتل پر ایک ایسا افسانہ گھڑا گیا جس کے نہ سر تھے نہ پیر۔ اس قتل نے ہلچل مچادی اور وہیں بی وائی سی جیسی تحریک نے جنم لیا۔ دو ہفتوں تک تربت کے فدا شہید چوک پر بالاچ مولا بخش کی میت کے ساتھ لوگوں کا ہجوم جمع رہا۔ اس ہجوم میں ایک سایہ سا ماسٹر اقبال کمپیوٹر کا بھی شامل تھا مگر ماسٹر اس وقت نمایاں ہوئے جب ان کا سکوت اچانک سینے سے پھٹ کر آنسوؤں کی زبان میں باہر آیا۔ کیمرے کی آنکھ نے عدیل کی تصویر سینے سے چمٹائے ماسٹر اقبال کو قید کرلیا اور سوشل میڈیا نے اسے وائرل کردیا۔ اب اقبال کمپیوٹر ایک کردار بن چکے تھے۔ جبری گمشدگی کا شکست خوردہ کمپیوٹر بول رہا تھا، دکھڑا سنا رہا تھا مگر کیا بول رہا تھا، بے ربط جملوں میں شاید خود کمپیوٹر کو بھی معلوم نہ تھا۔

دو سالوں کی جبری گمشدگی کے بعد پھر ایک دن عدیل اقبال بازیاب ہوگئے ۔ ان کی پنجگور سے گرفتاری ظاہر کی گئی اور چند مہینوں کی پیشیوں کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے۔ تاریک کھوٹھڑی سے عدیل کی واپسی نے ماسٹر اقبال کو دوسرے بیٹے کے غم کو پھر سے یاد کرنے پر مجبور کیا مگر ساتھ ہی اقبال کمپیوٹر دوبارہ زندگی کی جانب لوٹنے لگے۔ محفلوں میں آنا جانا، بات چیت، گفتگو، ہنسی مذاق واپس آنے لگے۔ لیکن قدرت کو شاید اقبال کمپیوٹر کا سکون سے رہنا منظور نہ تھا۔ قدرت کمپیوٹر سے کچھ اور حساب چکانا چاہتی تھی۔

ضمانت پر رہائی کے بعد عدیل ایک بار پھر سوزوکی کا استاد (ڈرائیور) بن کر اسٹیئرنگ پر بیٹھ گیا۔ وہی معمولات بحال ہوگئے، صبح بچیوں کو اسکول پہنچانا، شام کو مسافر لے جانا، رات کو گھر آنا اور بہنوں کی فیسیں ادا کرنا۔ یہی اقبال کمپیوٹر کی خوب صورت زندگی تھی اور زندگی اب ایک نئے زاویہ میں بدلنے کو رواں تھی۔

پھر 23 جولائی 2025 کا وہ دن آگیا جس نے اقبال کمپیوٹر کو ایک زندہ انسان سے علامتی شخص میں بدل دیا۔ اسی روز تربت شہر میں ان کے بیٹے عدیل کو سوزوکی کے فرنٹ سیٹ پر اسٹیئرنگ سنبھالتے، چھٹی کے بعد بچیوں کو گھر لانے کے لیے روانہ ہوتے وقت مسلح افراد نے بیچ شہر میں گولیاں مار کر قتل کردیا۔ عدیل اقبال قتل ہوگئے مگر اپنے پیچھے ماسٹر اقبال کو ایک زندہ لاش بنا گئے۔

اقبال کمپیوٹر ایک بار پھر سکوت میں چلے گئے۔ محفلوں میں جانا چھوڑ دیا، گفتگو بند کردی، صبح و شام اور رات تک گھر میں محصور ہوگئے۔ ان کی بیٹی کے مطابق ماسٹر اقبال گویا اس بار کومے میں چلے گئے حتیٰ کہ گھر والوں سے بھی بات چیت ختم کردی۔ صبح اور شام سکوت کے مارے اقبال کمپیوٹر شام ہوتے ہی شراب میں مگن ہوجاتے اور پیتے پیتے جب بے خود ہوتے تو گلہ کرتے، شکوہ کرتے، اپنی بدنصیبی کا دکھڑا سناتے مگر کس سے؟ کسی انسان سے نہیں، ماسٹر کے تمام گلے اور شکوے قدرت سے ہوتے۔ وہ اب بھی اسی کیفیت کا شکار ہیں۔

ان کی بیٹی کے بقول سارا دن الگ تھلگ خاموش رہنے والا یہ غم زدہ شخص جو عمر کی قید سے نکل کر بہت ضعیف لگنے لگا ہے، روز شام ہوتے ہی پینے لگتا ہے اور رات کو گلے شکووں کا ایک انبار لے کر قدرت کو سناتا ہے۔ “غم کتنی اذیت ناک ہوتا ہے، یہ انسان کو مٹا دیتا ہے، اندر ہی اندر ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جسے کوئی پُر نہیں کر سکتا. یہ بات بس ماسٹر اقبال ہی جانتے ہیں” جیسا کہ ان کی بیٹی نے بتایا۔

ماسٹر اقبال کمپیوٹر، دو نوجوان مقتول بیٹوں کے والد، زمانے کے کسی پر رونق دور میں ایسے نہ تھے۔ خوش مزاج، ہنس مکھ، محفلوں کی جان اقبال ماسٹر کو ان کے دوستوں نے ان کی ذہانت، فطانت اور حاضر جوابی پر “کمپیوٹر” کا عرفی نام دے رکھا تھا۔ بلا کی تیز، ہر بات کا فوری جواب اور ہمہ وقت متحرک رہنے والے ماسٹر اقبال دوستوں کے کمپیوٹر تھے۔ رنگین مزاج اقبال کا کوئی دن دوستوں کے بغیر نہیں گزرتا تھا اور بچوں کے ساتھ ہنسی مذاق کے بغیر ان کی شام رات میں نہیں بدلتی تھی۔

وہی ماسٹر اقبال کمپیوٹر اب ایک پُر اذیت زندگی کا سامنا کررہے ہیں۔ زمانے کے دکھ اور قدرت کے عطا کردہ غموں کے بوجھ تلے دبے ماسٹر اقبال کمپیوٹر کی ایک حالیہ وائرل ویڈیو انہیں دوبارہ منظر عام پر لائی۔ شاید کسی شادی کی تقریب میں رات گئے اچانک ماسٹر اقبال کمپیوٹر محفلِ موسیقی میں داخل ہوتے ہیں۔ غموں سے چور، دکھوں کا بوجھ اٹھائے، دو جوان بچوں کی لاشیں اپنے ہی کندھوں پر لحد تک اتارنے والے ماسٹر کمپیوٹر ایسے ناچتے، تھرکتے اور لے کی سر میں ایسے مست جھومتے نظر آتے ہیں گویا وہ ابھی زندگی کے رنگوں سے بہرہ ور ہوں۔

غور سے دیکھیں تو لرزتے قدم، ٹوٹا جسم اور خالی آنکھیں صاف بتاتی ہیں کہ اندر سب کچھ ٹوٹ چکا ہے۔ یہ ناچ خوشی کا نہیں، بلکہ کرب سے نجات کی ایک کوشش ہے، صرف اپنی کتھارسس اور بس۔ دو جوان بیٹوں کی لاشیں اپنے کندھوں پر اٹھانے والا یہ شخص اب اپنی ٹوٹ پھوٹ کو لے، سر، رقص اور موسیقی کے سہارے سنبھال رہا ہے۔

ماسٹر اقبال کمپیوٹر آج ایک سالم انسان نہیں، ایک استعارہ ہیں۔ روح چھلنی، جسم زندہ لاش اور ایک خوددار مگر شکست خوردہ باپ، جو اب بھی خاموشی کے شور میں زندہ ہے۔

ان کی بیٹی جب یہ سب بیان کرتے ہوئے گزرے دنوں کی یادوں کی لڑی پروتی ہے اور اقبال کمپیوٹر کو ایک باپ کی صورت میں یاد کرتی ہے تو یکایک اس کی آواز ہچکیوں میں ٹوٹ جاتی ہے۔

ماسٹر اقبال کا قصہ ابھی ادھورا ہے، اس زخم زدہ سماج میں اور بھی بے شمار اقبال ہیں جن کی کہانیاں کبھی لفظوں کا روپ نہیں دھارتیں، اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اقبال خوش قسمت بھی ہے کہ اس کے دکھ کو کم از کم سنا اور سمجھا گیا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔