بی ایل ایف کا بلوچستان میں فورسز پر حملے اور ناکہ بندی، شہید سرمچار کو خراجِ عقیدت

135

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 20 جنوری کو تربت کے علاقے ہوت آباد میں ناکہ بندی کرکے اسنیپ چیکنگ کیا۔ 

ترجمان کے مطابق دوران چیکنگ سرمچاروں نے پاکستانی فوج کے لیے راشن اور دیگر سامان لے جانے والی ایک گاڑی کو راشن اور ڈرائیور سمیت تحویل میں لے لیا، بعد ازاں ڈرائیور کو تنبیہ کرکے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کردیا۔

انہوں نے کہا ہے سرمچاروں نے انیس جنوری کو بی ایل ایف کے انٹیلجنس ونگ کے اطلاع پر ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے پٹ فیڈر بیدار روڈ پر فرنٹیئر کور “ایف سی 144 ونگ” کے کرنل رضوان کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا۔ 

میجر گہرام بلوچ کے مطابق حملے کے نتیجے متعدد ایف سی اہلکار زخمی ہوئے اور قافلے کے گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

انکا کہنا تھا سرمچاروں نے انیس جنوری کو آواران کے علاقہ بزداد میں قابض پاکستانی فوج کے پیدل گشتی ٹیم کو بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔

سرمچاروں نے سولہ جنوری کو خاران میں ریاستی ڈیتھ سکواڈ کے سرگرم کارندے  شائد گُل ملازئی کے ٹھکانے پر دستی بم سے حملہ کیا۔

میجر گہرام بلوچ کے مطابق سرمچاروں نے چودہ جنوری کو بلیدہ کے علاقے الندور میں قائم قابض پاکستانی فوج کے چوکی کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا، حملے کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے بتایا کہ بارہ جنوری کو آواران کے علاقے تیرتیج، آھوری میں تنظیمی ساتھی بدل عرف دلدار ولد خدابخش سکنہ دراسکی آواران، اپنے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے چھٹی پر تھے کہ اس دوران قابض پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہوگئے۔

ترجمان کے مطابق شہید بدل عرف دلدار نے 2013 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ میں شمولیت اختیار کی اور تیرہ برس تک تنظیم کے ساتھ ایک مخلص، ثابت قدم اور جفاکش سرمچار کے طور پر خدمات انجام دیے، ایک بہادر اور تجربہ کار سرمچار کی حیثیت سے انہوں نے متعدد معرکات میں دی گئی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں، ان کی عسکری صلاحیتوں اور وابستگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے تنظیم نے انہیں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز کیا تھا۔

بی ایل ایف ترجمان نے کہا تنظیم کی جانب سے شہید بدل عرف دلدار کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کی قربانی کو جدوجہد کے ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

شہید کے لواحقین نے قابض پاکستان کے ظلم و جبر، جبری علاقہ بدری اور دیگر تمام مظالم کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا اور بلوچ قومی تحریکِ آزادی سے جڑے رہے، وہ آج بھی ثابت قدمی کے ساتھ تنظیم اور تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔

میجر گہرام بلوچ نے اپنے بیان میں مزید کہا تنظیم تربت کے مقامی ٹھیکیدار محمد رحیم زہری کو تنبیہ کرتی ہے کہ وہ قابض پاکستانی فوج کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی فوری طور پر بند کرے، بصورتِ دیگر اپنے نقصانات کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔

ترجمان نے آخر میں کہا بلوچستان لبریشن فرنٹ تربت ہوت آباد میں ناکہ بندی اسنیپ چیکنگ اور فوجی راشن کو ضبط کرنے، ڈیرہ مراد جمالی میں فرنٹیئر کور کے کرنل رضوان کے قافلے پر حملے، آواران کے علاقے بزداد میں گشتی ٹیم پر بم حملے، خاران میں ڈیتھ اسکواڈ کے ٹھکانے پر دستی بم حملے، بلیدہ کے علاقے الندور میں قابض فوج کے چوکی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور شہید سرمچار بدل عرف دلدار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔