ہیروف (سیاہ طوفان) – زمین زھگ

126

ہیروف (سیاہ طوفان)

تحریر: زمین زھگ

دی بلوچستان پوسٹ

آسدان میں مدھم سی آگ جل رہی تھی؛ اس کی بھل کھاتی نارنجی روشنی اس سرد راست کو گرم حرارت مسرت دے رہی تھی۔ شبِ بُزگر کی اتھاہ خامشی میں کمانڈر حمل، غار کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ٹھنڈے نوکدار پتھر ان کی پشت پر رگڑ کھا رہے تھے۔ سامنے دوستین بھیٹا تھا، جس کے چہرے پر ابھرے سائے اور گہری لکیریں تھیں، جو سیوی کے جھلسا دینے والے سورج نے تراشے تھے اور اس کے ساتھ ہی سنگت وشین بھیٹا تھا، ایک خاموش اسکالر جو اب فتح اسکواڈ کا ایک سپاہی بن گیا تھا اور جنگی معرکوں سے پختہ جنگجو بن چکا تھا۔

“بالآخر خامشی کا سینہ چھیرتے ہوئے سنگت وشین نے سانس بحال کرکے کہا کہ وہ (پاکستان آرمی کے آئی ایس پی آر) کہتے ہیں کہ ہم نے اس سال بلوچستان میں اٹھاون ہزار چھاپے مارے ہیں، “اس کا مطلب ہے کہ وہ ہر روز ایک سو ساٹھ چھاپے مار رہے ہیں۔”

دوستین نے حقارت سے ہنکارا اور آواز تنگ غار میں تیزی سے گونجی، جیسے ایک ہی آواز ہر طرف سے آ رہی ہو۔ غار کے سیاہ کونوں سے لیکر آسدان کی نارنجی روشنی تک سب سُن رہے تھے “روز کے ایک سو ساٹھ چھاپے۔؟ یعنی ہماری راہ روکنے کے لیے وہ نوشکی سے تربت ہر ایک گاؤں میں گھروں کے دروازے توڑ رہے ہیں، زہری میں ہم ایک مہینے تک کنٹرول کیے بیٹھے تھے اور وہ ہمیں روک نہیں سکے۔ وہ تعداد کو بنیاد بنا کر اپنی بے بسی چھپا رہے ہیں، ان کے اعداد و شمار ان کی جھنجھلاہٹ کو بے نقاب کررہے ہیں۔”

“یہ اس سے بڑھ کر ہے،” حمل نے گہری اور پُرسکون آواز میں بولا۔ “یہ ان کی بے بسی کا اظہار ہے۔ وہ مکمل جنگی کیفیت میں ہیں۔ تیز رفتار انسدادِ شورش میں سب کچھ جھونک رہے ہیں تاکہ ہمارے عزم کو تعداد کے شور میں ڈبو دیں مگر ذرا اس تعداد کو تو دیکھو جسکا وہ خود اعتراف کرتے ہیں۔ ملک بھر میں ہمارے پندرہ سو سے زیادہ حملوں میں بارہ سو سے زائد  اہلکاروں کی ہلاکت کا اعتراف کررہے ہیں۔ انہی کی شماریات کے مطابق ہم روزانہ کی بنیاد پر چار بار انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔”

“اعداد و شمار کی زبان عدمِ تحفظ کے شکار لوگ استعمال کرتے ہیں” حمل نے لہجہ دینا تھا، جس میں پہاڑوں میں گزارے ایک عشرے کا وزن تھا۔ “وہ گنتے ہیں۔۔۔۔ گنتے ہیں کہ کتنے دروازے توڑے گئے ہیں، یہ نہیں گنتے کہ ہر ٹوٹے کُنڈے کے ساتھ کتنے دل ان کے خلاف ہو جاتے ہیں۔ وہ اٹھاون ہزار چھاپوں کا کہتے ہیں؟ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اٹھاون ہزار بار اس تحریک کی روح کو ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے حمل کی سانس دیمی پڑھ جاتی ہے”
“اعداد و شمار، وہ پناہ لیتے ہیں جو ہار رہے ہیں،”

حمل نے کچھ دیر رکھ کر پھر گویا ہوئے۔ “وہ چھاپے گنتے ہیں کیونکہ دل نہیں گن سکتے۔ ان دلوں کی دھڑکنیں نہیں سن سکتے۔  ‘انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز’ گنتے ہیں کیونکہ اس حقیقت سے خوف زدہ ہیں کہ روز ایک سو ساٹھ چھاپوں کے باوجود، جب ہم چاہیں شاہراؤں پر قبضہ کر لیتے ہیں، گاؤں اور شہر میں جب چاہیں داخل ہوسکتے ہیں۔ وہ پہاڑوں کے سایوں کا نقشہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن حمل جان! سایوں کو نقشے میں نہیں اتارا جا سکتا۔” سرگوشی کی انداز میں دوستین کہہ رہا تھا۔

“کبھی کبھی میں اُن آدمیوں کے بارے میں سوچتا ہوں جنہیں وہ ان ایک سو ساٹھ چھاپوں میں بھیجتے ہیں۔ پنجاب، پختونخوا یا سندھ سے آئے سپاہیوں کے بارے میں، جو تنخواہ کے بدلے حکم مانتے ہیں۔ وہ ہمارے پہاڑوں کو دہشت سے دیکھتے ہیں؛ کونسے سائے میں نشانہ باز، کس پتھر کے نیچے بارودی سرنگ۔ اور ہم… ہم جو ان پہاڑوں کو ماں کی گود سمجھتے ہیں۔ انہی میں چلنا، پھرنا، رہنا اور لڑنا سیکھتے ہیں” پھر اس نے آہ بھری۔ حمل اثبات میں سر ہلاتا ہے۔ چہرے پر کم ہی نظر آنے والی مامتا جھلکتی ہے۔ “اسی لیے وہ ہاریں گے۔ وہ نقشے کے لیے اور ہم گھر کے لیے لڑ رہے ہیں۔”

“وہ سمجھتے ہیں ہم بیرونی فنڈنگ کے سہارے چل رہے ہیں” سنگت وشین نے کڑوی ہنسی کے ساتھ کہا۔ “وہ کہتے ہیں کہ سرحد پار سے ہمیں جدید ہتھیار ملتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم کُرنو (سخت روٹی) کھاتے ہیں اور چار آدمیوں میں ایک بوتل پانی دو دن تک بانٹتے ہیں۔ وہ نہیں دیکھتے کہ ہم ایک ساتھی کو بے ہوش ہونے سے بچانے کے لیے گندے پانی میں الیکٹرولائٹس ملا کر اسے پلاتے ہیں”

“یہی ان کی کمزوری ہے،” حمل کے چہرے کی سختی نرم ہوگئی “وہ اُس شخص کو نہیں سمجھ سکتے جو ایسی آزادی کے لیے مر رہا ہے جسے اس نے دیکھا تک نہیں۔ وہ اُس ماں کے دل کو نہیں سمجھ سکتے جو اپنے تیسرے بیٹے کو بھی پہاڑوں میں بھیج دیتی ہے جبکہ پہلے دو کبھی واپس گھر کو نہ لوٹے ہوں۔ اسی لیے ان کی اٹھاون ہزار آپریشن والی دھاڑ بے معنی ہوجاتی ہے۔ قومی عزم کو چھاپے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔”

“وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمارے لوگ ہی ہمارے پہاڑ ہیں، اور ہماری معلومات سیٹلائٹ یا غیر ملکی ایجنسیوں یا ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے نہیں آتے” حمل نے کہا، “یہ کیچ کے چرواہے سے آتی ہیں جو نیا ریڈیو ٹاور دیکھ کر اسکی اطلاع آگے پہنچاتا ہے؛ چاغی کے وہ دکاندار جو قافلے کو زیادہ دیر کھڑا دیکھتا ہے اور معلومات نوٹ کرتا ہے؛ مستونگ کی گمنام بہنوں سے، جو مخبروں کے نام سرگوشی میں پہنچا دیتی ہے۔ ہم انہی سرگوشیوں سے ایک پوری قوم بنا رہے ہیں۔”

“دشمن جوابی کارروائی میں اپنے چھاپے روز کے دو سو یا تین سو تک بڑھائے گا، ہم غاروں میں نہیں چھپیں گے۔ ہم انہیں سنسان گھاٹیوں میں گھسیٹ لائیں گے۔ ہم انہیں ریگستانوں میں, پہاڑوں کے ان سایوں کے پیچھے دوڑائیں گے، جن کا وہ خاکہ بناتے اور مٹاتے ہیں تاکہ گاؤں سانس لے سکیں۔”

سنگت آگے جھکا اور تشویش چہرے پر عیاں تھی، اس نے کمانڈر استفسار کہا کہ “لیکن لوگ جلدی تھک جاتے ہیں، ہم نے آپریشن ہیروف میں بس ڈرائیوروں کی آنکھوں میں خوف دیکھا ہے۔ وہ ہمارا ساتھ دیتے ہیں، مگر ہماری آندھی اور دشمن کے بوٹوں کے بیچ پھنسے ہیں۔ ہم انہیں کیسے بتائیں کہ آپریشن ہیروف ک دوسرے فیز میں اس سے زیادہ سخت ہوگا ۔؟ ہم کیسے سمجھائیں کہ روز کے ایک سو ساٹھ چھاپے ہماری پیش رفت کی علامت ہیں، یہ انجام ہرگز نہیں۔”

کمانڈر حمل نے اس کی طرف دیکھا، اس کے آنکھوں پر نمی چھا گئی۔ اسے شِیہک یاد آیا برسوں پہلے کا ایک کمانڈر جو انہی گرد آلود راہوں میں پینتالیس جنگجووں کے قافلے کی قیادت کرتا تھا۔ اپنے آدمیوں کی بھوک اور اُس حادثاتی آگ کی فکر کرتا تھا، جس نے اچانک دشمن کی گاڑی جلادی تھی اور سات لاشیں جھلسا دی تھیں۔ وہ انسانیت ہی ان کا سب سے بڑا ہتھیار تھی۔

“ہم انہیں سچ بتائیں گے،” حمل نے کہا۔ “بتائیں گے کہ ہیروف کا دوسرا فیز زیادہ نقصان کے بارے میں نہیں، زیادہ خودمختاری کے بارے میں ہے۔ پہلے مرحلے میں ہم نے دکھایا کہ ہم انہیں روک سکتے ہیں؛ دوسرے میں ہم ان کی جگہ لے کر دکھائیں گے” پہلے طوفان کی آگ بجھی نہیں تھی، وہ بس دوسرے کے لیے سانس لے رہی تھی۔ سنگت نے فکر مندی سے سانس لی اور پوچھا، “اگر وہ روز ایک سو ساٹھ آپریشن کر رہے ہیں تو آپریشن ہیروف کے دوسرے فیش کی منصوبہ بندی یا عمل درآمد اس دباؤ میں کس طرح ممکن ہوگا۔؟”

“کمانڈر” وشین نے صحرا کی گرد سے بھری کھردری آواز میں کہا، “خبر آگ کی طرح پھیل رہی ہے، گوادر کی بندرگاہوں سے کوئٹہ کی منڈیوں تک ہیروف کے دوسرے فیز’ کی بات ہو رہی ہے۔ مگر لوگ دشمن کے اعداد بھی دیکھتے ہیں۔ اٹھاون ہزار آپریشن، روز کے ایک سو ساٹھ چھاپے۔ لوگ پوچھتے ہیں: جسم اتنا دبے تو دل کیسے دھڑکے گا۔؟”

کمانڈر نے جیب سے سگریٹ نکالا، ہونٹوں سے لگایا اور سلگھایا۔ آسدان کی روشنی ماند پڑ گئی تھی، اس نے لکڑیوں کو ایسے جھڑک کر رکھا کہ آگ نے دوبارہ جان پکڑ لیا۔ روشنی میں اس کی نگاہوں کی شدت جھلک اٹھی۔ “آپریشن ہیروف پہلا جھٹکا تھا” “ہیروف کا دوسرا مرحلہ وہ زلزلہ ہوگا جو دشمن کے قدموں تلے زمین نکال دے گا۔” پھر اس نے کہا کہ ہم انہیں حد سے زیادہ پھیلنے دیں گے، انکو پہاڑوں میں تھکا کر چُھور کر دیں گے اور جب وہ نڈھال ہوجائیں گے تو ہم آخری باب کا آغاز کریں گے یہ چھوٹے ڈنکوں کی لڑی نہیں ہوگی؛ ہماری سرزمین پر سے ان کو نکال پھینکنے  کے لیے ایک فیصلہ کن ضرب ہوگی“.

”مگر خبریں کہتی ہیں کہ وہ نفری بڑھا رہے ہیں،”

سنگت نے سوالیہ انداز میں پوچھا، زہری کے جھڑپوں کے نشانات ہاتھوں پر نمایاں ہیں۔ “وہ اسے عزمِ استحکام کہتے ہیں۔ زیادہ ڈرون، شہروں سے دیہات تک زیادہ نگرانی کے کیمرے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں نچوڑ رہے ہیں۔ تو کمانڈر…۔ ہیروف کا دوسرا مرحلہ کیا ہے۔؟

مزید ناکہ بندیاں، شاہراؤں پر وقتی کنٹرول یا لیویز تھانوں پر حملے ۔؟”

“ہرگز نہیں،” کمانڈر مسکرائے۔ “پہلے مرحلے میں ہم نے اپنے ربط کو آزمایا، ہم تعداد میں آٹھ سو ایک سائے کی طرح ایک ساتھ، ساحل سے پہاڑوں اور شہروں تک، ہر اسٹریٹجک شاہراہ تک بڑھے۔ ہم نے سیکھا کون غیر جانب دار ہے جیسے لیویز جنہوں نے ہتھیار رکھ دیے اور کون قابض کے لیے مرنے کا انتخاب کرے گا۔ ہیروف کا دوسرے مرحلے میں ہم صرف شریانیں بند نہیں کریں گے؛ ہم دل واپس لیں گے اور ساتھ ان کی سانس بھی چھینیں گے۔”

“وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پچھلے سال ان کے ایک ہزار ساٹھ اہلکار مارے گئے وہ اسے سانحہ کہتے ہیں۔ ہم اسے انصاف کا توازن کہتے ہیں۔ چہتر برس سے انہوں نے ہماری زمین کو لوٹ کا گودام سمجھا ہے، اب ہم انھیں حساب چکھانے پر مجبور کریں گے۔ آپریشن ہیروف ہر ناانصافی کا حساب ہے ہماری ماؤں اور بہنوں کے آنسو، ہمارے بھائیوں پر تشدد، اور بلوچ زمین کے لوٹے گئے وسائل ستتر برس کی ناانصافی کا حساب۔”

“ہم شاہراؤں پر پھر اتریں گے، مگر اس بار ان پر سفر کرنے والوں کے دل بھی ہمارے ہوں گے۔ ہم دکھائیں گے کہ بی ایل اے محض ایک ‘مسلح گروہ’ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ریاست کا بیج ہوگا۔ غیر جانب دار ہونے کے ساتھ رحم دل، اور قابض کے ساتھیوں سے وہی سختی جو ہم نے اسی سے سیکھی ہے۔”

“آپریشن ہیروف کا سب سے اہم حصہ ہتھیار نہیں،” حمل کی آواز نرم مگر تیز دھار لیے ہوئے تھی۔ “یہ وہ اپیل ہے جو جیئند بلوچ نے کی ہے۔ ہم لوگوں کو گھروں سے نکلنے کو کہہ رہے ہیں۔ اگلا مرحلہ شروع ہوگا تو دشمن کو نہ صحرا میں پناہ ملے گا، اور نہ ہی شہروں میں پناہ حاصل کرسکے گا۔ اب کی بار گوادر کی گرم چٹانوں سے لیکر شمال کی برفیلی پہاڑوں تک ہر کوچے میں ہم مورچہ زن ہوں گے، ہر گلی ہمارا محاز ہوگا۔ ہر روڈ، ہر چوراہے پہ ہم ہوں گے”

کمانڈر نے ایک چھوٹی لکڑی کے صندوقچے سے خطوط نکالے، یہ فوجی رپورٹ نہیں، لوگوں کے پیغامات ہیں۔

“دیہاتوں میں وہ ہمارے منتظر ہیں۔ قلات کے ایک بزرگ نے بتایا ہے کہ فوج جب روزانہ چھاپے مارنے کے لیے آتی ہے تو وہ برآمدے میں بیٹھ کر حقہ پیتا ہے۔ وہ چیختے، چلّاتے ہیں، اناج خانہ کھنگالتے ہوئے ‘دہشت گردوں” کا پوچھتے ہیں۔ وہ افق پر نظریں جما خاموش رہتا ہے۔ یہ خاموشی ہی ہیروف کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے وہ دیوار جسے دشمن پھلانگ نہیں سکتا۔”

کمانڈر نے سنگت کو ایک خط تھمایا۔ “کوئٹہ کے طلبہ وہ ابھی رائفلیں نہیں اٹھا رہے، مگر وہ ہماری پروئی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ وہ جیت لکھ رہے ہیں۔ انصاف لکھ رہے ہیں۔ حق و باطل میں تفریق لکھ رہے ہیں۔ ہر ایک ہلاکت، ہر لوٹے گئے وسیلے کو دستاویزات کا حصہ بنا رہے ہیں۔ وہ دنیا کو بتائیں گے کہ 2025 میں دشمن کے ایک ہزار ساٹھ ہلاک اہلکار محض اعداد نہیں تھے—وہ ایک جبری قبضے کی قیمت کا ایک جزو تھے۔”

سنگت نے آگ کو دیکھا، ذہن میں ہزاروں میل پھیلی شاہراہیں۔ “کمانڈر، کیا ہم انجام بھی دیکھ پائیں گے۔؟
یا ہم آنے والوں کے لیے بس ایک راستہ بنارہے ہیں؟”

حمل نے سنگت کے کندھے پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا، پُرسکون انداز میں یوں گویا۔ “ان پہاڑوں میں رائفل تھامے ہر لڑاکے نے یہ سوال کیا ہے۔ اسکا جواب اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ آج قابض خوف زدہ ہے۔ اہم یہ ہے کہ ہمارے بچے خود کو پیدا شدہ ازلی غلام نہیں سمجھیں گے۔”

غار کے باہر تاریکی جو چھیرتی ہوئی ہوا کا تیز جھوکا گزرا اسی ‘ہیروف’ (سیاہ طوفان) جیسی۔ وہی نام جس میں دشمن کے پرچخے اڑانے کی سکت ہے، وہی ہیروف جو ان کی حکمت عملی کا محض نام نہیں بلکہ استعارہ تھا۔

“کمانڈر،” دوستین نے گود میں رکھی رائفل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “دوسرے مرحلے کے لیے کب بڑھیں گے؟”

حمل کھڑا ہوا۔۔۔ اسکا سایہ غار کی دیوار پر چھا گیا۔ انہوں نے غار کے دہانے کی طرف دیکھا جہاں ستارے
آسمان پر چمک رہے تھے، اور کہا: “جب طوفان کے اختتام پر پہلا سورج طلوع ہوگا، دوسرا مرحلہ پہلے ہی ان کے دروازوں پر دستک دے رہا ہوگا۔”

“جب تم اپنی یونٹ میں لوٹو گے” حمل نے حکم دیا “بتانا ہیروف محض ایک آپریشن نہیں، یہ ہمارے لوگوں اور مادرِ وطن سے وعدہ ہے۔ فتح اسکواڈ کے دو ہزار ایلیٹ جنگجوؤں سے کہنا کہ شاہراہیں پھر پکار رہی ہیں۔ مجید بریگیڈ کے رضاکاروں کو کہنا کہ ان کی قربانی گھپ اندھیرے میں ہماری روشنی ہے۔”

“انہیں یہ کہنا کہ سیاہ طوفان لوٹ رہا ہے، اور اس بار تب تک نہیں جائے گا جب تک ہم اپنی زمین واپس نہیں لے لیتے”

حمل نے گفتگو کو اختتام کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا کہ ۔ “اب سو جاؤ۔ کل پھر مارچ شروع کریں گے۔ ہم ایک تباہ کن طوفان کی تیاری کر رہے ہے، اور پہاڑ ہمارا انتظار کر رہے ہیں کہ ہم رہنمائی کریں۔”

جب انہوں نے سخت زمین پر اپنے کمبل بچھائے، تو دور آسمان میں ایک ڈرون کی بھنبھناہٹ سنائی دی۔ ایک ننھا، میکانکی کیڑا جو لاکھوں دلوں کی زمین میں ایک دھڑکن ڈھونڈ رہا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ باہر دشمن کے اٹھاون ہزار آپریشنوں میں انہیں تلاش کیا جا رہا ہے مگر یہ بھی جانتے تھے کہ ہر اس بلوچ کے دل میں جو قافلوں کو جلتا دیکھتا ہے، ایک نیا نقشہ بن رہا ہے۔

وہ جانتے ہیں کہ یہ راستہ مزید بھوک اور نقصان سے بھرا پڑا ہے، مگر جب انہوں نے ستاروں کو دیکھا تو وہی آسمان نظر آیا جو ایک دن گرد سے ابھرتی خودمختار قوم کو دیکھے گی۔

حمل نے آنکھیں بند کیں اور مسکرایا۔ وہ ان تک کبھی نہیں آ سکیں گے کیونکہ وہ پہاڑوں کے سائے ہیں۔ ہوا پھر غار کے باہر اس طرح تیزی سے چیخی، جیسے ‘ہیروف’ (سیاہ طوفان)۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔