ٹرمپ کا گرین لینڈ کے حصول پر مؤقف مزید سخت – یورپ دھونس یا دباؤ میں نہیں آئے گا: فرانس

17

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی اپنی دھمکیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ اب ’واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں‘ اور یہ کہ ’گرین لینڈ امریکہ کے لیے نہایت ضروری ہے۔‘

وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں، تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو جلد پتا چل جائے گا۔‘

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے دوران فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے خبردار کیا کہ دنیا ’قواعد و ضوابط کے بغیر ایک نئے دور‘ کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا کہ ’پرانا عالمی نظام واپس نہیں آ رہا۔‘

صدر ٹرمپ کو بدھ کے روز ڈیووس پہنچنا تھا، تاہم ایئر فورس ون میں معمولی خرابی کے باعث طیارے کو واپس لوٹنا پڑا۔ اس تاخیر کے ان کے شیڈول پر اثرات کے حوالے سے صورتحال واضح نہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کے مطابق طیارہ واپس موڑ دیا گیا اور صدر ٹرمپ کسی دوسرے طیارے کے ذریعے ڈیووس روانہ ہوں گے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے حوالے سے ’متعدد اہم ملاقاتیں طے ہیں۔‘

اس سے قبل طویل پریس بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ’صورتحال کافی بہتر انداز میں طے پا جائے گی۔‘

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا گرین لینڈ کے لیے نیٹو اتحاد کے ممکنہ ٹوٹنے کی قیمت ادا کرنا انھیں قبول ہوگا، تو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’جو کُچھ میں نے نیٹو کے لیے کیا ہے، کسی نے نہیں کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ نیٹو بھی خوش ہوگا اور ہم بھی خوش ہوں گے‘، اور اس بات پر زور دیا کہ ’عالمی سلامتی کے لیے نیٹو کی ضرورت ہے۔‘

تاہم اس سے قبل صدر ٹرمپ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کیا نیٹو امریکہ کی مدد کے لیے آئے گا یا نہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ہم نیٹو کی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے، لیکن مجھے واقعی شک ہے کہ کیا وہ ہماری مدد کے لیے آئیں گے یا نہیں۔‘

نیٹو (نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن) اس وقت 32 رکن ممالک پر مشتمل ہے، جن میں امریکہ ان 12 بانی ممالک میں شامل ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کے حصول کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کیا۔ این بی سی نیوز کی جانب سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس مقصد کے لیے طاقت استعمال کریں گے، تو صدر کا جواب تھا کہ ’ابھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ کھڑے ہیں‘: کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی مکمل حمایت کا عزم

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور گرین لینڈ کے مستقبل کا تعین کرنے کے ان کے منفرد حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کینیڈا کا نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے اصول پر پورا یقین رکھتا ہے، جس کے مطابق ایک یا زیادہ ممالک پر حملہ سب پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈا گرین لینڈ کے حوالے سے ٹیرفز کی بھی سخت مخالفت کرتا ہے۔

ٹرمپ کی ٹیرف کی دھمکی ’ناقابل قبول‘ ہے: ایمینوئل میخواں

فرانسیسی صدر ایمینوئل میخواں نے ڈیوس کے عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کیا ہے۔ انھوں نے کہا ’امن، استحکام اور قابلِ یقین صورتحال وقت کا تقاضا ہے۔‘

اس جملے پر کمرے میں قہقہے لگ گئے۔

میخواں نے کہا کہ واضح ہے کہ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ’غیر استحکام اور عدم توازن‘ کا ہے۔۔ نہ صرف سکیورٹی کے لحاظ سے بلکہ اقتصادی نقطہ نظر سے بھی ہے۔

انھوں نے کہا ’حالات پر غور کریں ہم کہاں کھڑے ہیں‘ اور اس کے ساتھ ’آمرانہ رجحان کی طرف تبدیلی‘ اور 2024 میں دنیا بھر میں جاری جنگوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’تنازع معمول بن گیا ہے۔‘

میخواں نے پھر تحفظ پسندی اور ٹیرفز کی طرف توجہ دلائی۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کی تجارت میں مسابقت، جو ہمارے برآمدی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے، زیادہ سے زیادہ رعایتیں مانگتی ہے اور کھل کر یورپ کو کمزور اور تابع بنانے کی کوشش کرتی ہے، ساتھ ہی ’نئے ٹیرفز کے لامتناہی اضافے‘ کو ناقابل قبول قرار دیا۔

میخواں نے کہا کہ یہ معاملہ اور بھی زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب یہ ٹیرفز ’علاقائی خودمختاری کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیے جائیں۔‘

فرانسیسی صدر کے مطابق یورپی مسابقت امریکہ سے پیچھے رہ گئی ہے اور ہمیں کم نمو اور ناکافی سرمایہ کاری کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

میخواں نے کہا کہ فرانس اور یورپ واضح طور پر قومی خودمختاری اور آزادی کے پابند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ ’پرانی سوچ‘ نہیں ہے بلکہ دوسری جنگ عظیم کے اسباق کو مکمل طور پر فراموش نہ کرنے اور تعاون کے عزم پر قائم رہنے کا معاملہ ہے۔

فرانسیسی صدر نے کہا کہ انھی اصولوں کی بنیاد پر ان کے ملک نے گرین لینڈ میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کسی کو دھمکانا نہیں بلکہ ڈنمارک میں ایک اتحادی کی حمایت کرنا ہے۔