بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ملازمین کے احتجاج کے پیشِ نظر کوئٹہ شہر میں موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی ہیں۔
بلوچستان بھر کے ملازمین ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کے لیے احتجاج کررہے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں۔
ملازمین کی تنظیموں کے الائنس نے مطالبے کو منوانے کے لیے آج بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ریڈ زون میں دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے بلوچستان بھر سے سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ پہنچ گئی ہے۔
تاہم ملازمین کے داخلے کو ریڈ زون میں روکنے کے لیے گذشتہ شب کنٹینرز لگا کر ریڈ زون کو مکمل سیل کردیا گیا تھا۔
ریڈ زون میں راستے بند ہونے کے باعث ملازمین احتجاج کے لیے پریس کلب کے باہر جمع ہونے شروع ہوئے، لیکن پولیس نے انہیں وہاں بھی جمع نہیں ہونے دیا بلکہ وہاں سے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کرلیا۔
ان گرفتاریوں کے بعد گرینڈ الائنس کی جانب سے جیل بھرو تحریک کا اعلان کیا گیا ہے۔
جہاں انتظامیہ نے ریڈ زون کو سیل کردیا تھا وہیں دوپہر کو کوئٹہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں اس احتجاج کے پیشِ نظر موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل کردیا گیا۔
انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ سے صارفین کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



















































