خضدار: ٹریفک حادثہ، چھ افراد جانبحق، متعدد زخمی

0

مسافر بس اور کار کے درمیان تصادم کے نتیجے میں مسافر کوچ الٹ گئی۔

خضدار سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تحصیل وڈھ کے قریب ایک مسافر کوچ موٹرسائیکل سوار کو بچانے کی کوشش میں کار سے ٹکرا گئی، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر الٹ گئی۔

حادثے کے نتیجے میں چھ افراد کے جانبحق ہونے جبکہ پندرہ سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

بلوچستان میں ٹریفک حادثات کے واقعات میں ایک بار پھر تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، گزشتہ روز ہی گوادر کی تحصیل اورماڑہ کے قریب مکران کوسٹل ہائی وے پر ایک مسافر کوچ خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں 9 مسافر موقع پر ہی جانبحق جبکہ 36 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں ٹریفک حادثات کی وجوہات میں مختلف عوامل شامل ہیں، تاہم سڑکوں کی خستہ حالی اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گاڑیوں کو گھنٹوں روکنے کے باعث ڈرائیوروں کی جلد بازی میں وقت پر پہنچنے کی کوشش بھی حادثات کا سبب بن رہی ہے۔

پاکستانی فورسز کی جانب سے قائم درجنوں چیک پوسٹوں پر مسافر اور مال بردار گاڑیوں کو کئی گھنٹوں تک روکا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر اپنی آخری منزل تک پہنچنے کا دباؤ ہوتا ہے۔

اس دباؤ کے باعث مسافر گاڑیاں خطرناک حد تک تیز رفتاری اختیار کرتی ہیں، جبکہ وقت پر نہ پہنچنے کی صورت میں سیکیورٹی حکام کی جانب سے شہر میں داخلے سے دوبارہ روک دیا جاتا ہے۔

بلوچستان میں قائم میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر 1122 کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2019 سے ستمبر 2025 کے دوران بلوچستان کی مختلف قومی شاہراہوں پر 77 ہزار 826 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں ایک ہزار 743 افراد جانبحق جبکہ ایک لاکھ تین ہزار 902 افراد زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں ٹریفک حادثات کی شرح پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے، اور ہر گزرتا سال صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

بلوچستان کی سیاسی و سماجی تنظیموں سمیت شہریوں کی جانب سے برسوں سے حکومت سے مؤثر اقدامات اور حادثات کی روک تھام کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی ٹھوس کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔