میڈیا ٹرائیل: یہ صرف بیانیہ سازی نہیں، ایک منظم قتل ہے – ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

1

میڈیا ٹرائیل: یہ صرف بیانیہ سازی نہیں، ایک منظم قتل ہے

تحریر: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان میں جس عمل کو میڈیا ٹرائیل کہا جا رہا ہے، وہ کسی فرد کے خلاف رائے عامہ بنانے کی مشق نہیں، یہ ایک مکمل سیاسی، عسکری اور ادارتی منصوبہ ہے۔ یہ ایک ایسا منظم عمل ہے جس میں پہلے انسان کو قانون سے باہر کیا جاتا ہے، پھر اسے سماج سے کاٹا جاتا ہے، اور آخر میں اس کے قتل یا گمشدگی کو قومی سلامتی کے بیانیئےمیں جذب کرلیا جاتا ہے۔ یہاں میڈیا ٹرائیل کسی گرفتاری کے بعد شروع نہیں ہوتا، بلکہ گرفتاری، جبری گمشدگی، تشدد اور قتل سب اسی ٹرائیل کے ضمنی مراحل ہوتے ہیں۔

سترہ فروری دو ہزار تئیس کو ماہل بلوچ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کسی ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ اس پورے نظام کا نمونہ ہے۔ آدھی رات کو سی ٹی ڈی اور دیگراداروں نے ماہل کو اس کے گھر سے اٹھایا۔ یہ گرفتاری نہیں تھی۔ نہ کوئی وارنٹ، نہ کوئی الزام، نہ کوئی ایف آئی آر۔ اس وقت گھر میں اس کی دو کم سن بچیاں تھیں، ایک ضعیف العمر ساس، نند اور اس کی بیٹی۔ یہ سب ریاستی طاقت کے براہ راست گواہ بنے۔ اگلی صبح جب ماہل کی بازیابی کے لیئے ریلی نکالی گئی تو باقی گھروالوں کو رہا کردیا گیا، مگر ماہل کو نہیں۔ کیونکہ اصل مقصد گرفتاری نہیں تھا، مقصد ایک مثال قائم کرنا تھا۔

جب کوئٹہ میں تمام تنظیموں نے مل کر ریڈ زون میں دھرنا دیا، تو مطالبہ نہ سیاسی تھا، نہ عسکری۔ صرف یہ کہا گیا کہ اگر ماہل مجرم ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، اگر الزام ہے تو ایف آئی آر دی جائے، اور اگر کوئی ثبوت ہے تو قانونی طریقہ اختیار کیاجائے۔ یہ ایک بنیادی، آئینی اور انسانی مطالبہ تھا۔ جواب میں پہلے قاصد کے ذریعے دلاسہ دیا گیا کہ صبح تک ایف آئی آر مل جائے گی۔ پھر دوسرا پیغام آیا کہ اگر دھرنا ختم نہ ہوا تو کریک ڈاؤن ہوگا اور سب کو ایک دہشتگرد کے سہولت کارکے طور پر جیل بھیج دیاجائے گا۔

یہاں ایک بنیادی سوال اٹھایا گیا، جس کا جواب آج تک نہیں دیا گیا۔ کس نے، کب، اور کس بنیاد پر ماہل بلوچ کو دہشتگرد قرار دیا۔ اگر کوئی قانونی ثبوت تھا تو پیش کیا جاتا۔ اگر کوئی مقدمہ تھا تو درج کیا جاتا۔ مگرجواب دلیل نہیں تھا، جواب طاقت تھا۔ دھرنا جاری رہا، اور اسی لمحے میڈیا ٹرائیل کا باضابطہ آغاز ہوا۔

نام نہاد نیوز چینلز پر بغیر کسی عدالتی فیصلےکے یہ کہاجانے لگا کہ ماہل دہشتگرد ہے، کالعدم تنظیموں نے اسے استعمال کیا، اگر بروقت کارروائی نہ ہوتی تو وہ خودکش حملہ کر چکی ہوتی۔ غور کیجیئے، یہاں ایک عورت کو نہ صرف مجرم قرار دیا گیا بلکہ ایک ایسا مستقبل بھی گھڑدیا گیا جو کبھی ہوا ہی نہیں۔ یہ محض پروپیگنڈا نہیں تھا، یہ تشدد کا جواز تھا۔ کئی دن کے تشدد اور اذیت کے بعد بارہ مئی دو ہزارتئیس کو ماہل ضمانت پر رہا ہوئی، مگر رہائی انصاف نہیں تھی۔ یہ صرف جسمانی قید کا اختتام اور نفسیاتی قید کا آغاز تھا۔

ماہل برسوں تک پیشیاں دیتی رہی۔ ہر پیشی ایک یاد دہانی تھی کہ وہ آزاد نہیں، وہ صرف عارضی طورپرباہرہے۔ ایک ملاقات میں، اس کی دونوں بچیاں اس سے لپٹی ہوئی تھیں اور ضد کررہی تھیں کہ وہ چھٹیوں میں گاؤں جانا چاہتی ہیں۔ ماہل انہیں ٹال رہی تھی۔ جب میں نے پوچھا کہ کیوں نہیں لے جاتیں، تو اس نے کہا کہ اگر وہ گاؤں گئی تو پیشی چھوٹ جائے گی، اور اسے اشتہاری قرار دے کر دوبارہ گرفتار کرلیا جائے گا۔ یہ جملہ محض ذاتی دکھ نہیں، یہ اس نظام کی عکاسی ہےجہاں ایک ماں کا بچوں کے ساتھ سفر بھی ریاستی اجازت سے مشروط ہوچکا ہے۔

تقریباً تین سال بعد ماہل کا کیس ختم ہوا، اور وہ بے قصور نکلی۔ مگر یہاں انصاف کا تصور الٹ چکا ہے۔ بے قصور ثابت ہونا کوئی کامیابی نہیں، کیونکہ اس پورے عرصے میں نہ میڈیا ٹرائیل کرنے والوں سے کوئی سوال ہوا، نہ تشدد کرنے والوں کا احتساب ہوا، نہ ان اداروں نے معافی مانگی جنہوں نے ایک عورت اور اس کے بچوں کی زندگی تباہ کی۔ سب آج بھی اپنی کرسیوں پر موجود ہیں، طاقتور، محفوظ، اور ریاستی سرپرستی میں۔

یہی ماڈل اب بلوچ یکجہتی کے رہنماؤں پر لاگو کیاجارہا ہے۔ پچھلے ایک سال سے انہیں بغیر کسی جرم کے قید رکھا گیا ہے۔ ان کے خلاف میڈیا، این جی او نما ادارے، جعلی پارلیمانی نمائندے اور سرکاری ترجمان سب متحرک ہیں۔ ہر چند ماہ بعد آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس، کبھی کسی صوبائی افسر کے ساتھ بیٹھ کر، کبھی کسی وزیر کے ذریعے، اور کبھی کسی نامعلوم خاتون کو بغیر شناخت دہشتگرد قراردے کر ایک ہی بات دہرائی جاتی ہے کہ انسانی حقوق کا دفاع دراصل دہشتگردی ہے۔

یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ کیا یہ سب محض بیانیہ سازی ہے، یا اس سے کہیں آگے کا منصوبہ۔ میرا مؤقف واضح ہے۔ یہ صرف بیانیہ سازی نہیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے جبری گمشدگیوں کو جائز، تشدد کو ضروری، اور قتل کو قابلِ قبول بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک اعلان ہے کہ ہزاروں جبری گمشدہ افراد کی زندگیاں اب قابلِ شمار نہیں رہیں۔ یہاں میڈیا ٹرائیل ایک اختتام نہیں، بلکہ آغاز ہے۔ آغاز اس عمل کا جس میں انسان کو پہلے لفظوں سے مارا جاتا ہے، پھر جسم سے۔

جب میڈیا ٹرائیل کو معمول بنا دیاجائے، تو اس کااگلا منطقی قدم جسمانی تشدد نہیں بلکہ اخلاقی اجازت نامہ ہوتا ہے۔ ریاست پہلے یہ طے کرتی ہے کہ کون انسان ہے اور کون محض ایک فائل، پھر یہ طے ہوتا ہے کہ کس کے لیئے قانون ہے اور کس کے لیئے بندوق، اور آخر میں یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس کی موت پر سوال اٹھانا غداری کہلائے گا۔ بلوچستان میں خواتین کے خلاف جاری ریاستی عمل اسی اجازت نامے کا سب سے عریاں اظہار ہے۔

جب کسی نامعلوم خاتون کو شناخت چھپا کر پریس بریفنگ میں دہشتگرد کہاجاتا ہے، تو یہ محض ایک الزام نہیں ہوتا۔ یہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ اب عورت کا جسم بھی جنگی میدان ہے۔ یہ کہا جارہا ہوتا ہے کہ عورت کو جبری گمشدہ کرنا، اس پر تشدد کرنا، اسے خاموشی سے ختم کرنا یا اس کی لاش کسی ویرانے میں پھینک دینا ایک قابلِ دفاع عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان میں پولیو کی مریضہ ماہ جبین چھ ماہ سے زائد عرصے سے لاپتہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نو ماہ کی حاملہ ہیر النساء کو اٹھایاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرزانہ، رحیمہ، ہانی، زبیدہ، نسرینہ اور دیگر بلوچ خواتین کی گمشدگیاں محض اعداد و شمار بن چکی ہیں۔

یہاں عورت کی گرفتاری نہیں ہوتی، یہاں عورت کو مٹایا جاتا ہے۔ اور اس مٹانے کے لیئے سب سے پہلے اس کی شناخت چھینی جاتی ہے۔ نام چھپایا جاتا ہے، چہرہ دکھایا نہیں جاتا، خاندان کو خاموش کردیا جاتا ہے، اور میڈیا کے ذریعے ایک ایسا کردار گھڑا جاتا ہے جو کسی عدالت میں کبھی ثابت نہیں ہوتا۔ پنجگور میں نازیہ شفیع کی غیر طبعی موت اسی عمل کا نتیجہ تھی۔

یہی بیانیہ بلوچ یکجہتی کے رہنماؤں کے خلاف استعمال ہوا۔ ماہ رنگ، بیبو، گلزادی، شاہ جی، بیبرگ، ایمان اور ہادی کے خلاف کارروائیاں کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں تھیں، بلکہ ایک منصوبہ بند تسلسل تھا۔ ماہ رنگ اور بیبو کی گرفتاری سےایک رات پہلے بیبرگ کو اس کے گھر سے بغیر کسی وارنٹ کے اٹھایا گیا۔ اگلے دن پرامن مظاہرے سے پہلے فائرنگ کی گئی۔ تین شہریوں کو قتل کیا گیا۔ ان میں بارہ سالہ نعمت اللہ بھی شامل تھا۔ جب ان شہریوں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دیا گیا تو اس پر بھی کریک ڈاؤن کیا گیا، لاشیں، لواحقین اور مظاہرین سب کو زبردستی اٹھا لیا گیا۔

یہ وہ لمحہ تھاجہاں ریاست کے پاس دو راستے تھے۔ یا تو وہ ان تین معصوم شہریوں کے قتل پر ندامت ظاہر کرتی، یا پھر بیانیہ گھڑتی۔ اس نے بیانیہ چنا۔ اگلے ہی روز سرکاری بیانات آنے لگے کہ ماہ رنگ جعفر ایکسپریس میں مارے جانے والے افراد کی لاشوں کے ساتھ پکڑی گئی۔ یہ بیان صرف ماہ رنگ کو قید رکھنے کا جواز نہیں تھا، بلکہ ان تین شہریوں کے قتل پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بھی تھا۔ یہ اعلان تھا کہ انصاف نہیں ملے گا۔ دس ماہ گزرچکےہیں، نہ معافی مانگی گئی، نہ تحقیقات ہوئیں، نہ ذمہ داروں کا تعین کیا گیا۔

اس کے باوجود یہ جھوٹ آج بھی زندہ ہے۔ آج بھی پریس بریفنگز میں یہ کہا جاتا ہے کہ بی وائی سی کے رہنماؤں کو جعفر ایکسپریس میں ہلاک افراد کی لاشیں زبردستی اٹھانے کے جرم میں قید کیا گیا ہے۔ یہ وہ جھوٹ ہے جو بار بار دہرایا جاتا ہے تاکہ سچ دفن ہوجائے۔ اس پورے عرصے میں حکومت بلوچستان کے سربراہ، وزیراعلیٰ، چیف سیکریٹری، پولیس اور سی ٹی ڈی کے سربراہان سب اس عمل کا حصہ رہے۔ کسی نے ہاتھ نہیں روکا، کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔

یہی بیانیہ بچوں کے خلاف بھی استعمال ہوا۔ پچاس سے زائد اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو جبری گمشدہ کیا گیا۔ کچھ کو میڈیا بریفنگز میں دہشتگرد قرار دے کر ان کا مستقبل دفن کردیا گیا۔ فراز رشید، جس کی عمر محض سولہ سال تھی، دسمبر دو ہزار چوبیس میں اس گیراج سے اٹھایا گیا جہاں وہ چھٹی جماعت کے بعد اپنے خاندان کی روزی روٹی کیلئے کام کررہا تھا۔ بیس ستمبر کو اسے فیک انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا، اور ریاستی سطح پر جشن منایا گیا کہ ایک دہشتگرد مارا گیا ہے۔ کسی عدالت نے اسے مجرم قرار نہیں دیا تھا۔ مگر یہاں عدالت کی ضرورت بھی نہیں تھی، کیونکہ بیانیہ کافی تھا۔

اسی بیانیئےکی آڑ میں قانون سازی کی گئی۔ اعلان کیا گیا کہ کسی بھی شخص کو تین ماہ کے لیئے جبری گمشدہ رکھا جاسکتا ہے۔ اسی بیانیئےکے تحت نئے زندان بنائے گئے، جنہیں ڈیٹینشن سینٹرکا نام دیا گیا۔ اسی بیانیئےکی اوٹ میں بلوچستان اسمبلی سے راتوں رات منرل بل پاس کروایا گیا، وزراء کی تنخواہیں بڑھائی گئیں، اور عوام کے وسائل کو نئی منڈی میں نیلام کیا گیا۔ یہی بیانیہ تھا جس کے تحت اعتراف کیا گیا کہ اٹھاون ہزار سے زائد آپریشنز میں لوگوں پر جبر کیا گیا، گھروں کو مسمار کیا گیا، دروازے توڑے گئے، زیورات اور پیسے لوٹے گئے، اور لوگ اٹھا کرلے جائےگئے۔

یہی بیانیہ ہے جس کے تحت کہا جاتا ہے کہ سات سو سے زائد دہشتگرد مارے گئے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سات سو افراد ماورائے عدالت قتل کیئے گئے، جنہیں کسی عدالت نے مجرم ثابت نہیں کیا۔ اور اس سب کو جیو، اے آر وائی، سما، ڈان اور دیگر اداروں نے محض رپورٹ نہیں کیا، بلکہ دہرایا، بڑھایا، اور اسے سچ کے طور پر پیش کیا۔ بی وائی سی، ایمان مزاری اور دیگر کو بغیر کسی قانونی عمل کے دہشتگرد کہا گیا، فتنتہ الہندوستان جیسے القابات دیئے گئے، اور تنظیموں کو زبانی طور پر کالعدم قرار دیا گیا، حالانکہ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ سب صرف چند افراد کو سزا دینے کا معاملہ نہیں۔ یہ ایک پورے معاشرے کو خاموش کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اس عمل کا تسلسل ہے جس میں توتک میں سو سے زائد بلوچ لاشوں کو بغیر شناخت دفنایا گیا، اور ان کے لواحقین کو آج تک نہیں بتایا گیا کہ وہ جن قبروں کا انتظار کررہے تھے، وہ کہاں ہیں۔ یہ ہرسال ہزاروں بلوچوں کو جبری گمشدہ کرنے، فیک انکاؤنٹرز میں مارنے، اور لاشیں ویرانوں میں دفنانے کی اجازت ہے۔ یہ صرف بیانیہ سازی نہیں۔ یہ قتل کو معمول، خاموشی کوفرض، اور سوال کو جرم بنانے کا نظام ہے۔

یہ سب کچھ اس وقت صرف بیانیہ کہلانے کے قابل ہوتا، اگر یہیں رُک جاتا۔ اگر گرفتاری ہوتی اور گمشدگی نہ ہوتی۔ اگر چھاپے ہوتے اور لاشیں نہ ملتیں۔ اگرنگرانی ہوتی اور ڈرون حملے نہ ہوتے۔ اگر کسی آپریشن میں مارے جانے والے معصوم شہریوں پر افسوس کیاجاتا، ندامت ظاہر کی جاتی، شواہد مٹانے کے بجائے تحقیقات ہوتیں۔ مگر یہاں ہرمرحلے پر اگلا قدم پہلے سے زیادہ ہولناک ہے۔ اس لیئے اب یہ کہنا کہ یہ صرف بیانیہ سازی ہے، خود ایک فکری فرار ہے۔

ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ یہ نسل کشی نہیں، اگر صرف سیاسی جماعتوں پر پابندیاں لگتیں، جلسے روکے جاتے، ایف آئی آرز درج ہوتیں۔ اگر بی این پی کو جلسے کی اجازت نہ ملتی تو زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں ہوتیں، نہ کہ خودکش دھماکوں کا جواز گھڑا جاتا۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ یہ نسل کشی نہیں، اگر جبری گمشدہ کی جانے والی خواتین وہ نہ ہوتیں جو پولیو کی مریضہ ہوں، نو ماہ کی حاملہ ہوں، یا سترہ سالہ لڑکیاں ہوں۔ مگر یہاں عورت، بچہ، بوڑھا، سب یکساں نشانے پر ہیں۔

اسی سال، جب جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگز اور ریاستی جبر میں بے تحاشہ اضافہ ہوا، اسی سال معدنی وسائل کے سودے خاموشی سے طے کیئے گئے۔ اسی سال منرل ڈیلز پر دستخط ہوئے۔ اسی سال بلوچستان اسمبلی سے راتوں رات قوانین پاس کروائےگئے۔ اسی سال ڈیٹینشن سینٹرز کو قانونی نام دیا گیا۔ یہ سب ایک ساتھ نہیں ہورہا، یہ سب ایک ہی منصوبے کے مختلف حصے ہیں۔

یہ وہی منطق ہے جو توتک میں دکھائی دی تھی، جہاں سو سے زائد لاشیں بغیر شناخت دفن کی گئیں۔ نہ انہیں انصاف ملا، نہ لواحقین کو بتایا گیا کہ وہ جن بچوں کا انتظار کررہے تھے، وہ کہاں ہیں۔ یہ وہی منطق ہے جو آج بھی جاری ہے، ہر سال ہزاروں بلوچوں کو غائب کرکے، کبھی فیک انکاؤنٹر میں مار کر، کبھی دشت کے قبرستانوں میں دفن کرکے۔ یہ وہی منطق ہے جو کہتی ہے کہ بلوچستان کی معدنیات کوڑیوں کے دام بیچی جائیں، اور بلوچ عوام کو اس میں سے کچھ بھی نہ ملے۔

یہ سب محض ریاستی پالیسی نہیں، یہ ایک اخلاقی زوال ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموش رہنا غیر جانبداری نہیں رہتا، بلکہ شراکت بن جاتا ہے۔ جو بول نہیں رہا، وہ معصوم نہیں۔ جو سوال نہیں اٹھا رہا، وہ بے خبر نہیں۔ وہ سب اس عمل کا حصہ ہیں جو تاریخ میں نسل کشی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

مرے ہوئے لوگ واپس نہیں آتے۔ دی گئی اذیتوں کا ازالہ نہیں ہوتا۔ زخم بھر بھی جائیں تو نشان باقی رہتے ہیں۔ درد یادداشت بن کر نسلوں میں منتقل ہوتا ہے۔ مگر ایک چیز اب بھی ممکن ہے۔ مزید قتل کو روکا جا سکتا ہے۔ مزید گمشدگیوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس کےلیئے کسی بندوق کی ضرورت نہیں، صرف سچ کی ضرورت ہے۔ صرف اس بیانیئےکو توڑنے کی ضرورت ہے جو ظلم کو جواز دیتا ہے۔ ظلم کا ساتھ نہ دے کر، ظلم کے بیانیئےکو مسترد کرکے، اور ظلم کے سامنے کھڑے ہو کر۔ یہی واحد راستہ ہے۔

بلوچ نسل کشی کو جاری رکھنے اور تیزی سے پھیلتے اس ریاستی بیانیئے کے بیچ، ہم ہر اس ذی شعور انسان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلوچستان کو ایک بڑے اجتماعی قبرستان میں بدلنے سے روکنے میں ہمارا ساتھ دے۔ وہ اس میڈیا بلیک آؤٹ کو توڑنے میں ہماری آواز بنے۔ جھوٹ کے سامنے سچ کو زندہ رکھنے کی جنگ میں شامل ہوں۔

پچیس جنوری بلوچ نسل کشی کی یاد کا دن ہے۔ پچھلے سال دالبندین کی زمین نے ان لوگوں کی کہانیاں سنیں جو اس نسل کشی میں مارے گئے۔ اس سال، اس نیم مارشل لاء کی فضا میں شاید کوئی بڑا جلسہ ممکن نہ ہو، مگر کہانیوں کو دنیا تک پہنچانے کے راستے اب بھی موجود ہیں۔ قلم اب بھی موجود ہے۔ زبان اب بھی موجود ہے۔ ضمیر اب بھی زندہ ہو سکتا ہے۔

جھوٹے بیانیئے کے سامنے سچ کی تشہیر ایک جنگ ہے۔ اور یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جنگ ہم سب کو لڑنی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔