بلوچستان: ریلوے ٹریک پر رواں مہینے دوسرا دھماکہ، ٹریک تباہ

23

بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ہادی بخش رند ٹاور کے قریب گذشتہ شب نامعلوم افراد نے ریلوے ٹریک پر بارودی مواد نصب کرکے دھماکے سے تباہ کردیا۔ دھماکے سے ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

رواں سال بیس روز کے دوران ریلوے ٹریک پر دھماکے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سات جنوری کو بھی ڈیرہ مراد جمالی میں ٹریک کو دھماکے میں تباہ کیا گیا۔

گزشتہ ڈیڑھ سال میں بلوچستان آنے جانے والی ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات پر کم از کم 27 حملے ہو چکے ہیں جن میں فورسز اہلکاروں سمیت دو سو سے زائد افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ان حملوں میں سب سے مہلک واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا جب جعفر ایکسپریس پر درہ بولان میں بلوچ لبریشن آرمی کے سینکڑوں ارکان  نے حملہ کرکے پاکستانی فورسز کے اہلکاروں سمیت 450 افراد کو یرغمال بنایا، بعدازاں عام افراد کو  رہا کرکے اہلکاروں کی رہائی کو مطالبات سے مشروط کیا۔

اس حملے کے بعد سے ٹرینوں اور ریلوے تنصیبات کے گرد سخت سکیورٹی اقدامات کیے گئے لیکن حملے رُک نہیں سکے اور اس کے بعد بھی گزشتہ ایک سال میں مسافر ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس پر تقریباً 20 حملے ہوچکے ہیں جن میں پانچ بار ٹرین کی بوگیاں پٹڑی سے اُتریں۔

شکارپور اور جیکب آباد کے درمیان ہونے والے حملوں سے یہ بات سامنے آئی کہ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ اس کی سرحد سے ملحق سندھ میں بھی سکیورٹی کے انتظامات میں ابھی خامیاں موجود ہیں۔

عسکریت پسندوں کے حملوں اور خطرات کے باعث بلوچستان میں ٹرین سروس وقفے وقفے سے معطل ہوتی رہی ہے۔ مارچ کے مہلک حملے کے بعد کئی دنوں تک ٹرین سروس بند رہی پھر جولائی، اگست، نومبر اور دسمبر میں کئی بار جعفر ایکسپریس اور بولان میل کو منسوخ کرنا پڑا۔

اس طرح مسلسل خطرات کی وجہ سے اب ٹرین کا سفر لوگوں کے لیے خوف اور غیر یقینی کا سفر بن چکا ہے۔

جعفر ایکسپریس: کوئٹہ سے پنجاب جانے والی واحد ٹرین 

کوئٹہ سے پنجاب جانے والی واحد ٹرین جعفر ایکسپریس ہے۔ یہ سبی، سکھر اور ملتان سے ہوتے ہوئے لاہور، پھر راولپنڈی اور آخرکار پشاور پہنچتی ہے۔ کوئٹہ سے لاہور تک کا سفر شاذ و نادر ہی 24 گھنٹے سے کم میں مکمل ہوتا ہے۔

بلوچستان میں ریلوے لائن 1880 کی دہائی میں برطانوی راج نے فوجی و تجارتی مقاصد کے لیے بچھائی تھی۔ دو دہائیوں سے جاری جنگ کے دوران اس لائن اور اس پر چلنے والی ٹرینوں خاص کر جعفر ایکسپریس کو بارہا نشانہ بنایا گیا۔

2014 میں سبی سٹیشن پر کھڑی جعفر ایکسپریس پر حملے میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر مجید برگیڈ کے ‘فدائی’ حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر وہ فورسز اہلکار تھے جو واپس گھروں کو جا رہے تھے۔

11 مارچ 2025 کو درہ بولان میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ خطے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دو دہائیوں میں بلوچستان میں ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس پر 200 سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔

مسافر ٹرینوں پر زیادہ تر حملے کوئٹہ سے سبی کے درمیان درہ بولان کے دشوار گزار اور ویران پہاڑی علاقے میں ہوتے ہیں۔ اس تقریباً 70 کلومیٹر طویل درے میں ٹرین سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹ کر بنائی گئی 17 سرنگوں اور 350 پلوں سے گزرتی ہے۔

چڑھائی اور ڈھلوان پر بے قابو ہونے کے خطرے کے باعث رفتار 40 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رکھی جاتی ہے یہی مشکل جغرافیہ اور سست رفتاری حملہ آوروں کے لیے موقع بن جاتی ہے۔

ٹرین کی ہائی جیکنگ اور بڑے حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے لیکن گزشتہ سال سبی سے سکھر کے درمیان ہونے والے زیادہ تر کم شدت کے حملوں میں بلوچ ری پبلکن گارڈز (بی آر جی) ملوث رہی ہے۔

آزادی پسند تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹرینوں کو فوجی نقل و حرکت کی وجہ سے نشانہ بناتے ہیں۔

بلوچستان میں اس وقت صرف تین ٹرینیں چل رہی ہیں جن میں جعفر ایکسپریس سب سے بڑی اور واحد ٹرین ہے جو پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کو بلوچستان سے جوڑتی ہے۔ بولان میل ہفتے میں صرف دو بار کوئٹہ اور کراچی کے درمیان چلتی ہے جبکہ چمن پسنجر کوئٹہ سے افغان سرحدی شہر چمن تک روزانہ چلتی ہے مگر یہ لوکل ٹرین صرف 120 کلومیٹر کا سفر کرتی ہے۔