خاران: مزاحمت کی روایت اور انقلابی قبضے کی داستان – عائشہ بلوچ

1

خاران: مزاحمت کی روایت اور انقلابی قبضے کی داستان

تحریر: عائشہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ کل ہی کا واقعہ ہے کہ سوشل میڈیا پر نظر پڑی تو خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بلوچ آزادی پسند خاران میں مقامی آبادی میں داخل ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا کہ پولیس سے اسلحہ ضبط کیا گیا اور ایک بینک سے رقم حاصل کی گئی۔ اس عمل پر رائے عامہ منقسم نظر آئی، کچھ لوگوں نے اسے آزادی کی جدوجہد کا حصہ قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے متنازع اور ناقابلِ دفاع سمجھا، خصوصاً بینک سے زبردستی رقم لینے کے حوالے سے۔

لیکن کسی بھی عمل کا فیصلہ محض لمحاتی جذبات یا اخلاقی نعروں کی بنیاد پر کرنا، تاریخ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ کسی نتیجے تک پہنچنے سے قبل ضروری ہے کہ ہم اس جدوجہد کو اس کے تاریخی، نوآبادیاتی اور سیاسی پس منظر میں رکھ کر دیکھیں۔

بلوچستان میں مزاحمت کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ جب بلوچستان پر قبضہ ہوا تو اس جدوجہد کا اولین سنگِ بنیاد آغا عبدالکریم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکھا۔ اس تحریک کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں تھی کہ اس میں جذبہ یا حوصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ تھی کہ اس کے پاس اسلحہ، وسائل اور بیرونی حمایت کا فقدان تھا۔ وطن کے دفاع کی آگ تو سینوں میں موجود تھی، مگر خالی ہاتھ طاقتور ریاستی فوج کے سامنے یہ آگ کمزور پڑ گئی۔

بابو نوروز اور ساتھیوں کو قرآن کا واسطہ دے کر بلایا گیا، یقین دلایا گیا کہ ان کے مطالبات سنے جائیں گے، مگر جیسے ہی وہ پہاڑوں سے اترے، انہیں اپنی ہی سرزمین کے دفاع کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ محض ایک دھوکا نہیں تھا، بلکہ اس حقیقت کا اعلان تھا کہ طاقت کے بغیر مزاحمت کو ہمیشہ کچلا جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوآبادیاتی تاریخ کو محض اقتدار کی منتقلی کی کہانی سمجھنا ناکافی ہو جاتا ہے۔ درحقیقت نوآبادیات کی تاریخ طاقت، دولت اور قانون کی یکطرفہ مرکزیت کی داستان ہے۔ اس نظام میں محکوم اقوام سے صرف زمین اور وسائل ہی نہیں چھینے گئے، بلکہ ان کے سوچنے، بولنے اور مزاحمت کرنے کے تمام راستے بھی بند کر دیے گئے۔ فوج، پولیس، اسلحہ اور معیشت، طاقت کے تمام ذرائع، استعماری ریاست کے قبضے میں تھے، جبکہ مقامی آبادی مکمل طور پر بے اختیار تھی۔

ایسے حالات میں جنم لینے والی مزاحمتی تحریکیں محض جذباتی ردِعمل نہیں تھیں، بلکہ ایک منظم سیاسی شعور اور عملی حکمتِ عملی کا نتیجہ تھیں۔ ان تحریکوں کو ابتدا ہی سے ایک بنیادی مسئلے کا سامنا تھا: وسائل کی شدید کمی۔ نہ مالی معاونت دستیاب تھی، نہ اسلحہ، اور نہ ہی کوئی ایسا قانونی راستہ موجود تھا جس کے ذریعے مزاحمت کو مؤثر بنایا جا سکے۔ جب قانون خود جبر کا آلہ بن جائے، تو روایتی اخلاقیات اپنی معنویت کھو دیتی ہیں، اور تاریخ نئے راستے تراشتی ہے۔

یہیں سے ہتھیار چھیننے کی حکمتِ عملی جنم لیتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام میں اصل طاقت بندوق تھی۔ فوج اور پولیس کے ذریعے سیاسی کنٹرول قائم رکھا جاتا اور ہر ابھرتی آواز کو طاقت سے خاموش کر دیا جاتا۔ انقلابیوں کا ماننا تھا کہ جو نظام بندوق کے زور پر قائم ہو، اس کا سامنا محض اخلاقی دلائل سے نہیں کیا جا سکتا۔

اسی سوچ کے تحت مختلف مزاحمتی تحریکوں نے پولیس چوکیوں پر حملے کیے، اسلحہ خانوں سے ہتھیار حاصل کیے، اور دشمن سے چھینے گئے وسائل کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا۔ ان کے نزدیک یہ اقدامات جرم نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے نظام کے خلاف فطری ردِعمل تھے جو خود طاقت کے بل پر قائم تھا۔

اسی تناظر میں بینکوں سے رقوم لینے کے عمل کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔ نوآبادیاتی بینک محض مالیاتی ادارے نہیں تھے، بلکہ مقامی عوام کی محنت سے لوٹی گئی دولت کے ذخیرہ خانے اور استعماری اقتدار کے مالی ستون تھے۔ انقلابی فکر کے مطابق، ایسی دولت جو جبر، استحصال اور قبضے کے ذریعے جمع کی گئی ہو، اسے واپس لینا چوری نہیں بلکہ معاشی انصاف کی بحالی ہے۔

اسی تصور کو تاریخ میں Revolutionary Expropriation کہا گیا، جس کے تحت سرکاری خزانے، نوآبادیاتی بینک اور ریاستی وسائل کو انقلابی جدوجہد کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہی وسائل اسلحہ کی فراہمی، انقلابی لٹریچر کی اشاعت، اور کارکنوں و ان کے خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنے۔ یوں تحریک محض ایک جذباتی بغاوت نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہوئی۔

تاریخ اس حکمتِ عملی کی متعدد مثالیں پیش کرتی ہے۔ برصغیر میں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) اور کاکوری ٹرین واقعہ (1925) میں برطانوی حکومت کی رقوم کو آزادی کی جدوجہد کے لیے استعمال کیا گیا۔ آئرلینڈ میں آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے برطانوی پولیس سے ہتھیار اور نوآبادیاتی مالی اداروں سے وسائل حاصل کر کے مزاحمت کو مؤثر بنایا۔ روس میں بالشویک انقلاب سے قبل ریاستی بینکوں سے حاصل کی گئی رقوم نے انقلابی تنظیم کو زندہ اور متحرک رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

ان تمام مثالوں کے ذریعے انقلابی تحریکوں نے تاریخ کے سامنے ایک بنیادی اخلاقی سوال رکھا گیا: کیا ہر قانونی عمل لازماً اخلاقی بھی ہوتا ہے؟

ان کا مؤقف واضح تھا کہ جب قانون ظلم کے تحفظ کا ذریعہ بن جائے، تو اس کی خلاف ورزی محض سیاسی جرم نہیں رہتی بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ اسی تناظر میں یہ جملہ ایک نعرے سے بڑھ کر ایک فکری اعلان بن جاتا ہے: ہم قانون نہیں توڑ رہے، ہم ایک غیر منصفانہ نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔