ڈینش، امریکی اختلافات میں شدت، درجنوں یورپی فوجی دستوں کی گرین لینڈ آمد

33

گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک سے جمعرات 15 جنوری کو موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ڈنمارک سمیت اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان گرین لینڈ کے مستقبل اور آرکٹک خطے میں فوجی و تزویراتی موجودگی کے حوالے سے اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

گزشتہ روز ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کشیدگی کم کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے عملی اقدامات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں امریکی وفد نے گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت، معدنی وسائل اور آرکٹک سیکیورٹی کو امریکی قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے واشنگٹن کے کردار کو ناگزیر قرار دیا، جبکہ ڈنمارک اور یورپی یونین نے گرین لینڈ کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیا۔

اسی تناظر میں گرین لینڈ کے دارالحکومت نُوک سے ملنے والی تازہ رپورٹوں کے مطابق یورپی یونین کے رکن اور غیر رکن ممالک کے فوجی دستے مرحلہ وار گرین لینڈ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

ان ممالک میں جرمنی، فرانس، سویڈن اور ناروے شامل ہیں، جنہوں نے بظاہر یہ اقدام آرکٹک میں مشترکہ دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے نام پر کیا ہے۔

جرمنی اور فرانس، جو یورپی یونین کی سیاست اور معیشت کا کا مرکز سمجھے جاتے ہیں اس پیش رفت میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔

یورپی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان ممالک کی شمولیت اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپ گرین لینڈ کے معاملے پر واشنگٹن کے یکطرفہ مؤقف کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آرکٹک خطے میں اپنی سلامتی اور مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ جغرافیائی لحاظ سے نہایت حساس مقام پر واقع ہے اور وہاں بڑھتی ہوئی غیر امریکی فوجی سرگرمیوں پر واشنگٹن گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا، تاہم گرین لینڈ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ امریکی مفادات کو مدنظر رکھے بغیر قابل قبول نہیں ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر سخت مگر سفارتی مؤقف اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گرین لینڈ کے گرد بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت اس بات کی علامت ہے کہ آرکٹک خطہ عالمی طاقتوں کے درمیان نئے تزویراتی مقابلے کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔