بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچ خاتون ماہل بلوچ کی عدالت سے بریت ریاستی پروپیگنڈے، paid مین اسٹریم میڈیا چینلز اور اس جھوٹے بیانیے کو آگے بڑھانے والوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ یہ فیصلہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ بلوچ عورتوں کے خلاف گھڑے گئے مقدمات اور ریاستی بیانیہ کس حد تک بے بنیاد اور ناکام ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 17 فروری 2023 کو کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں کیچ سے تعلق رکھنے والی ماہل بلوچ کے گھر پر سی ٹی ڈی نے چھاپہ مارا، جہاں گھر کے تمام افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ماہل کو زبردستی حراست میں لے کر پہلے جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا۔ بعد ازاں اس پر خودکش حملے کی منصوبہ بندی، مسلح تنظیموں سے روابط اور سہولت کاری جیسے سنگین مگر جھوٹے الزامات عائد کیے گئے، تاہم آج انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے ماہل سمیت اس کے گھر کے دیگر افراد کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا ہے۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ ماہل کو جبراً میڈیا کے سامنے لا کر اعترافی بیان دلوایا گیا اور اس کا باقاعدہ میڈیا ٹرائل کیا گیا۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کی پریس کانفرنس میں ایک بڑی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹا گیا اور ایک خطرناک خودکش بمبار کی گرفتاری کی من گھڑت کہانی گھڑی گئی، جسے پاکستانی مین اسٹریم میڈیا نے بغیر کسی تحقیق کے ٹاک شوز، تجزیوں اور بریکنگ نیوز کی صورت میں سچ بنا کر پیش کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماہل بلوچ کو دورانِ حراست انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی دو کم عمر بچیوں کو الگ کمرے میں بند کر کے ماں پر تشدد کیا جاتا رہا، جن کی چیخوں نے دونوں بچیوں کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا۔ ماہل کو طویل عرصے تک کسٹڈی میں رکھا گیا اور وہ تین سال سے زائد عرصہ عدالتوں کے چکر کاٹتی رہی، تاہم آج وہ ان تمام گھڑے گئے مقدمات سے باعزت بری ہو چکی ہے۔
سمی دین بلوچ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماہل بلوچ کی بریت کی خبر کسی بھی مین اسٹریم میڈیا چینل پر جگہ نہ پا سکی، کیونکہ آج وہ تمام پروپیگنڈا، پریس کانفرنسیں اور میڈیا ٹرائل خود بے نقاب ہو چکے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ تین سالہ اذیت، خوف اور ناانصافی کا ذمہ دار کون ہے؟ ماہل پر تشدد کیوں کیا گیا، اسے کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا، اور وہ صحافی، میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس جنہوں نے بغیر تحقیق الزامات کو پھیلایا، کیا وہ ماہل پر ہونے والی ذہنی اور جسمانی اذیت کے ذمہ دار نہیں؟
انہوں نے کہا کہ تین سال قبل ماہل پر لگائے گئے الزامات آج بھی بلوچ لڑکیوں اور خواتین پر دہرائے جا رہے ہیں۔ ماہل کا تو ٹرائل ہوا، مگر اس وقت آٹھ بلوچ لڑکیاں کئی ماہ سے جبری گمشدگی کا شکار ہیں، اور انہی واقعات کے گرد وہی پرانا میڈیا پروپیگنڈا گردش کر رہا ہے، جو ریاستی بیانیے کے فیک، پلانٹڈ اور من گھڑت ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ آج ماہل کے کیس میں پیش رفت کسی چینل کے لیے بریکنگ نیوز نہیں، کیونکہ ماہل اور اس جیسی بلوچ لڑکیاں بلوچ قوم کی بیٹیاں ہیں جو ایک ظالم اور جابر ریاست کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا اصول یہی ہے کہ جب مظلوم کی سچائی سامنے آتی ہے تو ظالم کا جھوٹ دم توڑ دیتا ہے، اور کوئی بھی ریاست اپنی تمام تر طاقت اور پروپیگنڈا مشینری استعمال کر کے بھی سچ کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

















































