ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام بلوچ قوم کے نام: ‘‘ہمیں کیا کرنا ہے؟’’ کا جائزہ – مہرداد بلوچ

235

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام بلوچ قوم کے نام: ‘‘ہمیں کیا کرنا ہے؟’’ کا جائزہ

تحریر: مہرداد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہدہ جیل کی کال کوٹھڑی سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اپنی قوم سے یہ سوال کرتی ہیں، ‘‘ہمیں کیا کرنا ہے؟’’ یہ ڈاکٹر صاحبہ کا ایک ذاتی سوال نہیں بلکہ ہر بلوچ کے شعور میں یہ سوال گونج رہا ہے۔ یہ سوال نہ صرف بلوچ یکجہتی کمیٹی بلکہ ہر وہ بلوچ جو اپنے آپ کو بلوچ تحریک کا ایک مخلص کارکن سمجھتا ہے، جن میں نوجوان ٹیچر، لکھاری، دانشور، طلبہ، سیاسی ایکٹیوسٹ، مائیں بہنیں اور ہر عمر کے بلوچ شامل ہیں، کے سوچ کی آواز ہے۔ یہ سوال ہمیں ایسے تاریخی چوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اس کا جواب اور دیگر ذمہ داریاں ہماری انتظار میں ہیں۔ ‘‘رنگوں کے مہینے’’ کا یہ سوال نہ صرف ایک تاریخی عبارت ہے بلکہ ایک اہم موڑ، دانشورانہ حوصلہ اور انقلابی تاکید ہے۔ یہ سوال ہمیں تاکید کرتی ہے کہ خاموشی شکست کا سبب بن سکتی ہے اور شعوری عمل مستقبل کی منزل کو روشن کرتی ہے۔ یہ سوال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مزاحمت کوئی معمولی اشارہ نہیں ہے بلکہ نظریاتی بیداری، تنظیمی یکجہتی، اور فکری صراحت (Intellectual clarity) کا ایک مسلسل عمل ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ کا سوال ‘‘لیلن’’ کے مشہور سوال ‘‘کیا کیا جائے؟’’ کے ساتھ گونجتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کا سوال، ‘‘ہمیں کیا کرنا ہے؟’’ ہر انقلابی تناظر میں ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مسلہ یہ نہیں کہ ہمارے مخالفین کیا کر رہے ہیں۔ اہم مسلہ یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کون سا کام لازمی کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کا سوال ہمیں الجریا کے فینن، جنوبی افریقہ کے منڈیلا، لاطینی امریکہ کے چی گویرا اور انڈیا کے بھگت سنگھ جیسے شخصیات کی جدوجہد سے جوڑتا ہے۔

ہر سوال، ہر قربانی اور ہر مزاحمتی عمل ایک وسیع فکری فریم ورک سے جنم لیتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا سوال اس میراث کا تسلسل ہے۔ ڈاکٹر ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہماری تحریک کا نچوڑ (essence) کسی عمل کے ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ نظریاتی رہنمائی، فکری ہم آہنگی اور تنظیمی یکجہتی سے جڑا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے مطابق آزادی ملنا ایک فطری عمل نہیں بلکہ یہ مسلسل مزاحمت، فکری بالیدگی، قومی بیداری اور نظریاتی پختگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ ایک تلخ حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں، ہماری مقبول مزاحمت کو ازسرنو گہری فکری اور سیاسی جائزہ کی ضرورت ہے۔ یہ محض نوحہ کا وقت نہیں بلکہ ازسرنو انقلابی تنظیم کاری کا وقت ہے۔ اس کے لیے ہمیں ایک سیدھے سادھے، مضبوط، مدلل بیانئے اور درست نظریاتی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ جب جبر کا شکار ایک بلوچ سیاسی لیڈر جیل کی کوٹھری سے پوچھتی ہے، ‘‘ہمیں کیا کرنا ہے؟’’ ان کا سوال تنظیمی لائحہ عمل سے بڑھ کر ‘‘بلوچ قوم سے تقاضہ کر رہی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ مزاحمت کو رومانوی انداز میں بیان کرنے اور خاموش رہنے کی ناقابل معافی لاپرواہی کو واضح کرتی ہے’’۔ خاموش رہنے کی بجائے ہمیں تحریک کی میراث (legacy) کو قبول کرنا چاہیے۔ اسے ایک متحرک تحریک، بیدار قوم اور انقلابی نسل کی جانب آگے بڑھانا ہے۔ ہمیں کیا کرنا ہے؟ ہمیں اٹھنا ہے، ہمیں اپنے اطمینان، مایوسی اور کمزوریوں کے خلاف بغاوت کرنی ہے جو کسی بھی قوم کو محکومی کی جانب دھکیلتی ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ کا پیغام بلوچ قومی مزاحمت کی نچوڑ کا عکاس ہے اور ایک ایسی فکری فضا کی دریافت ہے جہاں تنظیم، بیداری اور جدوجہد ایک نئے نظریاتی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ زور دیتی ہیں کہ جو کچھ ہماری تحریک کے ساتھ ہو رہا ہے یہ محض ایک کریک ڈاؤن نہیں بلکہ نوآبادیاتی (colonial oppression) جبر ہے۔ یہ تفریق (distinction) الفاظ کا ڈرامہ اور ایک اہم سیاسی حقیقت کا نظریاتی تجزیہ ہے۔ کریک ڈاؤن عارضی، قانونی اور عبوری اصطلاح ہے۔ جبکہ نوآبادیاتی جبر ایک مستقل ساختی (structural) اور تاریخی حقیقت ہے۔ ان کی یہ وضاحت فرانز فینن کی بصیرت پر منطبق آتی ہے جو الجریا کی آزادی کی تحریک کے فکری معمار تھے۔ فینن کا خیال تھا کہ نوآبادیاتی جبر کو نہ صرف بندوق بلکہ شعور کو نئی شکل دے کر ہی قائم رکھا جاسکتا ہے (that colonial oppression is maintained through not only the barrel of a gun but also the reshaping of consciousness)۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ شعور کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہوئی کہتی ہیں، ہماری حقیقی شکست گرفتاری نہیں بلکہ فکری لحاظ سے پسماندہ ہونا ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ کی دلیل واضح ہے: ان کے مطابق تنظیم کاری افراد کے ہجوم کی بجائے اجتماعی شعور کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ فرق ایک انقلابی تحریک کو محض احتجاج یا ردعمل سے جدا کر کے اسے ایک رسمی (formal) نظریاتی، تنظیمی عمل میں بدل دیتی ہے۔ اس تناظر میں انتونیو گرامشی کا ‘‘نامیاتی دانشور’’ (organic intellectual) کا تصور خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ گرامشی کے مطابق قومی جدوجہد کے دوران کچھ دانشور اپنی قوم کی نمائندگی کرنے اور اس کی اجتماعی شعور کی تشکیل کے لیے ابھرتے ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گرامشی کے نظریات کے مطابق ایک ‘‘نامیاتی دانشور’’ جیسی ہیں۔ وہ ایک آئیڈیالوجسٹ، مزاحمت کی علامت، ایک تنظیمی مرکز اور ایک فعال سیاسی کارکن کی طرح کام کرتی ہیں۔ ان کے کام کا ایک قابل ذکر پہلو یہ کہنا ہے کہ ‘‘کرفتاری اور تشدد حقیقی شکست کی علامات نہیں، حقیقی شکست قوموں کی سیاسی اور فکری بھانپ پن میں ہے۔’’ ماہ رنگ کا یہ خیال (notion) فلسطینی مصنف اور مزاحمتی مفکر مالک غسان کنفانی کے ساتھ گونجتا ہے، جو تاکید کرتے ہیں کہ ‘‘کسی کو گولی مار کر ہلاک کرنے سے شکست نہیں ہوتی بلکہ شکست اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی تاریخ، قومی مقاصد اور اپنے لوگوں سے دور ہوجاتا ہے۔’’ چی گویرا نے بھی یہی کہا کہ ایک انقلابی محبت سے رہنمائی لیتا ہے۔ اس محبت کو اس نے نظم و ضبط، شعور اور قربانی کا مجموعہ کہا۔ ڈاکٹر صاحبہ بھی اسی اصول کو اپناتی ہیں جب وہ کہتی ہیں، ‘‘منظم ہونا ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے۔’’

سوشل میڈیا دور حاضر کی انقلابی تحریکوں کے لیے ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ پلیٹ فارم تحریک کے پیغامات کو پھیلانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن یہ فوری ردعمل، سطحی تجزیوں اور جذباتی بحثوں کے ایک فضا میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ درحقیقت اس خطرے سے آگاہ ہیں اور محتاط ہیں کہ سوشل میڈیا کی مسخ شدہ گفتگو کی بنیاد پر فیصلے کرنا تنظیمی شعور کو مجروح کرتا ہے۔ یہ چیلنج عرب بہار کے دوران بھی واضح ہوا جہاں تنظیمی ڈھانچے کی نہ ہونے کی بنا پر بہت سی تحریکیں عارضی بدامنی کے بعد تحلیل ہو گئیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ کا پیغام واضح ہے: مزاحمت مرکزیت، تربیت یافتہ کیڈر اور نظریاتی یکسانیت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ بی وائی سی ایک تنظیم سے زیادہ بلوچ مزاحمت کی تاریخ میں ارتقائی تسلسل کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ ایک مزاحمت ہے جس کی جڑیں نظریاتی، تنظیمی اور گہری فکری فریم ورک میں ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ اسے نیٹ (net) کے نام سے بیان کرتی ہیں۔ ایک ایسا جال جو نچلی سطح سے ہر کارکن کو شعوری اور عملی طور پر مرکز سے جوڑتی ہے۔

ہمیں ویت نام میں آزادی کی تحریک، بولیویا میں چی گویرا کی گوریلا تنظیم اور جنوبی افریقہ کی ANC میں ایک ہی ماڈل نظر آتا ہے، جہاں کامیابی کی کنجی قربانی اور اس قربانی کا نظریاتی شعور تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ کا پیغام ایک انقلابی نظریاتی منشور کی ماند ہے۔ یہ دستاویز اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ آزادی کی جدوجہد میں شعور پہلا محاذ ہے۔ جب شعور محفوظ، منظم اور مرکزی ہو تو شکست ناممکن ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر کی تحریر فینن کے اس تصور کو مجسم (embodies) کرتی ہے کہ استعمار جسم سے زیادہ دماغ کو غلام بناتا ہے، اور یہ کہ مزاحمت جیسے کہ مسلح جدوجہد فکری بیداری سے جنم لیتی ہے۔ اس فکری مزاحمت کی جڑیں بلوچ قومی تحریک کی تاریخ میں گہری ہیں۔ آج بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) جیسی انقلابی تنظیمیں اس فکری تسلسل کی مثال ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام ہمیں ذہن نشین کراتی ہے کہ تحریک کی نظریاتی مستقل مزاجی، تنظیمی کارکردگی، لگن، مسلسل فکری محنت، سیاسی تجزیے اور خود تنقیدی سے پیدا ہوتی ہے۔

جب ڈاکٹر ماہ رنگ کہتی ہیں، ‘‘ہمیں ایک لمحہ بھی الجھن کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔’’ وہ چی گویرا کے اس قول کی عکاسی کرتی ہیں کہ، محبت کے عظیم جذبات حقیقی انقلاب کی رہنمائی کرتے ہیں۔ تاہم یہ محبت ایک رومانوی محبت کی تصور سے بلند ہے۔ یہ محبت ایک انقلابی جدوجہد کی روحانی اور اخلاقی بنیاد ہے۔ یہ جذبہ جو ایک انقلابی کو انقلاب سے جوڑتا ہے۔ اس جذبے کی جڑیں نفرت یا انتقام میں نہیں بلکہ مظلوم لوگوں سے گہری محبت میں جڑی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کی باتیں، فکر اور بیانیہ اس گہرے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں جب وہ کہتی ہیں کہ منظم رہنا ہماری مجبوری نہیں بلکہ ہماری طاقت ہے، تو یہ محض ایک تنظیمی ہدایت نہیں بلکہ قوم کے لیے ایک سچا پیغام ہے۔ ایک محبت جو شکست سے نہیں ڈرتی، دباؤ سے نہیں ٹوٹتی اور وقت کے آزمائشوں سے مضبوط ہوتی ہے۔ ان کا ہر بیان اس خیال کو تقویت دیتا ہے کہ ہم صرف ادیبوں کی قوم نہیں بلکہ عملی قوم بھی ہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام ایک اہم فلسفہ بھی رکھتا ہے: وہ یہ کہ ‘‘غلامی جسمانی قید سے زیادہ خطرناک ہے اور حقیقی آزادی کے لیے فکری آزادی لازمی ہے۔ جسمانی قید انسان کی نقل و حرکت محدود کرتی ہے جبکہ غلامی کی زنجیر روح، فکر اور احساسات کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اندرونی قید چھپی (insidious) ہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ اس سے بے خبر ہو سکتے ہیں۔ غلامی کی سب سے خطرناک شکل وہ ہے جب وہ آزادی کا روپ دھارتی ہے۔ وہ منظر جب ایک مقبوضہ قوم قابض کی ترقی، ترقی پسند اقدامات اور امن کے بیانوں کو قبول کر کے اپنی فطری آزادی کو بھول جاتی ہے۔ اس کے برعکس سوچنے کی آزادی وہ سنگ میل ہے جس پر مزاحمت کی عمارت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ جب تک افراد اور قومیں خود کو سامراجی بیانیوں، ریاستی پروپگنڈے اور غلامانہ ذہنیت سے آزاد نہیں کر لیں تو کوئی حقیقی آزادی یا چھٹکارا نہیں ہو سکتا۔’’

سوچ کی آزادی انسان کو سوال کرنے، مسترد کرنے اور نئے سرے سے تخلیق کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان خصوصاً یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے قومی، فکری اور سیاسی استفسارات (inquiries) سے محروم رہے تو ان کے لیے زندہ لاشوں کے علاوہ کچھ نہ بننے کا خطرہ ہے۔ اس تصور کو نہ صرف فکری بلکہ عملی طور پر بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جب تک ہم غلامی کی زنجیروں کو تسلیم نہیں کریں گے ہماری مزاحمت سطحی رہے گی۔ حقیقی مزاحمت کے لیے سوچ کی زنجیریں توڑنا شامل ہے۔ کوئی بھی قوم آزادی اسی وقت حاصل کرتی ہے جب وہ شعوری طور پر آزاد ہو۔ یہ فہم لا تعداد گمنام شہیدوں کی قربانیوں کو مجسم کرتی ہے۔ جب فکر آزاد ہو تو قید اور شہادتیں جسم کو محدود نہیں کر سکتیں۔ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ آزادی صرف سرحدوں اور جھنڈے کا معاملہ نہیں، بلکہ آزادی ایک فکری، شعوری اور وجودی حالت ہے۔ ہم صرف اس وقت آزاد ہوں گے جب ہم سوچ سکتے ہوں اور اظہار خیال کر سکتے ہوں اور تب ہی ہم اپنی شناخت، تاریخ، اور مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ جسمانی طور پر قید ہونا یا جیل سے رہا ہونا آزادی کے برابر نہیں۔ اگر ہمارے خیالات، تعلیم، زمین، ثقافت، ادب، دانائی اور وجود غلامی میں جکڑے رہے تو ہم مدام قید میں ہیں۔ یہ ذہنی غلامی جیل کی سلاخوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مزاحمت کی کامیابی کا تعین صرف ایک دن کی عارضی فتح سے نہیں ہوتا، اس کا تعلق مسلسل فکری جدوجہد کا ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقلی سے ہے۔ یہ جدوجہد صرف قومی بقا کا نہیں بلکہ زندگی کو معنی دینے کی تخلیقی جدوجہد ہے۔ تنظیم، مرکزیت، شعور، خود تنقیدی اور ہمیشہ حالات کا تجزیہ وہ ستون ہیں جن پر ہر انقلابی تحریک کھڑی ہوتی ہے۔

یہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے پیغام کی حقیقی روح کو مجسم کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو جیل کی دیواروں سے زیادہ بلند، گہرا اور وسیع ہے۔ یہ ایک سوچ، رجحان اور ایک نظریاتی تجدید ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ کا کہنا ہے کہ تشدد، گرفتاریاں یا احتجاج سے گریز، شکست نہیں، شکست تسلیم کرنا فکری پسماندگی کی خصوصیت ہے۔ یہ گہری انقلابی سوچ ہمیں مزاحمت کی ظاہری صورت سے ہٹ کر اس کی فلسفیانہ بنیادوں کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب جبر معمول بن چکا ہے اور جذبات کو شعور پر ترجیح دی جا رہی ہو، ایسی صورت میں یہ موقف کہ سیاسی اور فکری مرکزیت ہی انقلابی قوت ہے، انقلاب کی صحیح رہنمائی ہے۔

اس تناظر میں ایک تنظیم محض ایک ڈھانچہ سے شعور کی مجسم شکل میں بدل جاتی ہے، اور مرکزیت صرف رہنمائی کے ایک ذریعہ سے شروع ہو کر فکری تربیت کا ذریعہ بنتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ اس فکری نظم و ضبط پر زور دیتی ہیں جو تنظیم کو جسموں اور دماغوں کو جوڑنے والی نیٹ ورک سے جوڑتا ہو۔ یہ پیغام سادہ نہیں ہے یہ ایک مقالہ (thesis) ہے جو کہتا ہے کہ قوموں کی نجات سیاسی احتجاج یا محض علامتی مزاحمت پر نہیں بلکہ فکری تنظیم اور آئیڈیالوجی کی مسلسل جدوجہد پر ہے۔ ‘‘رنگوں کے مہینے’’ کا پیغام واضح کرتا ہے کہ مزاحمت صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک شعور ہے، یہ شعور صرف اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب یہ منظم ہو اور جذباتی ردعمل کو پیچھے چھوڑ کر دلیل اور تنقیدی خیالات سے پر ہو (this consciousness can only be effective when organized and infused with reason and critical thought, surpassing mere emotional response)۔

اس طرح تنظیم نہ صرف مقدس حیثیت حاصل کرتی ہے بلکہ طاقت فراہم کرتی ہے اور فکر کو بھی زندہ رکھتی ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ جسموں کو قید اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن غور و فکر میں مشغول ایک ذہن حقیقی آزادی کا یقین دلاتی ہے۔ یہ فکری مزاحمت جیل کی کال کوٹھریوں سے نمودار ہوئی ہے اور اس نے پورے دور (era) کی رہنمائی کی ہے۔ ہماری فکری میراث ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے افکار، پیغامات اور مزاحمت کے وژن میں سمٹی ہوئی ہے۔ یہ میراث ہمیں سکھاتی ہے کہ قومیں نہ صرف بیرونی دشمنوں سے کمزور ہوجاتی ہیں بلکہ فکری خلا سے بھی متاثر ہوتی ہیں جو انہیں بے نام بنا دیتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں ردعمل دینا چاہیے اور ردعمل کا آغاز اس اہم سوال سے شروع ہوتا ہے: ‘‘ہمیں کیا کرنا ہے؟’’


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔