مزاحمت: قائم رہنے کا فن
تحریر: سمی دین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
مزاحمت کسی لمحے میں شروع نہیں ہوتی۔ یہ کسی دھماکے، کسی اعلان، کسی اچانک فیصلے کا نتیجہ نہیں۔ مزاحمت اس وقت جنم لیتی ہے جب وقت خود ایک بوجھ بن جائے۔ جب دن ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیے جائیں، اور ہر نیا دن پچھلے دن کی تھکن اٹھائے ہوئے آئے۔ یہ لکھی ہوئی تقدیر نہیں، بلکہ وہ عمل ہے جس میں تقدیریں آہستہ آہستہ اپنی گرفت کھونے لگتی ہیں۔ یہاں مزاحمت محض تبدیلی نہیں، بلکہ زندگی کے اندر ایک ایسی حرکت ہے جو جینے کے طریقے کو بدل دیتی ہے، اور طریقہ بدلتے ہی مقصد بھی بدل جاتا ہے۔
یہاں مزاحمت جوش نہیں، ضبط ہے۔ جوش جلد ختم ہو جاتا ہے، ضبط رہ جاتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان خواب دیکھنے کے لیے نہیں سوتا، بلکہ اس لیے جاگتا ہے کہ دنیا کو جوں کا توں قبول کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ بلوچ مزاحمت اسی جاگتی ہوئی حالت کا نام ہے۔ ایک ایسی بیداری جو شور نہیں مچاتی، مگر قومی وقار کو آہستہ آہستہ دوبارہ تراشتی ہے۔ یہاں اقدار کسی تقریر میں نہیں ملتیں، وہ عادت میں ڈھلتی ہیں۔ اور عادت بن جانے والی چیزیں ہی دیرپا ہوتی ہیں۔
مزاحمت کسی فتح کے وعدے پر قائم نہیں رہتی۔ یہ جانتی ہے کہ فتح فوری نہیں ہوتی، اور کبھی کبھی ہوتی بھی نہیں۔ مگر یہ بھی جانتی ہے کہ شکست کو معمول بنا لینا اصل ہار ہے۔ اس لیے بلوچ مزاحمت نتائج کے بغیر جینا سیکھ چکی ہے۔ یہ ہر دن کو ایک الگ فیصلہ سمجھتی ہے۔ آج مان لینا ہے یا نہیں، آج خاموش رہنا ہے یا نہیں، آج پیچھے ہٹنا ہے یا نہیں۔ یہی روزمرہ فیصلے اس مزاحمت کو زندہ رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت جینا نہیں بلکہ جینے کا مقصد ہے۔
بلوچ مزاحمت کا جسم ایک خاص تجربے سے گزرا ہوا جسم ہے۔ یہ وہ جسم ہے جو مسلسل نگرانی، عدمِ تحفظ اور انتظار میں جیتا ہے۔ یہ جسم آرام کا عادی نہیں۔ یہ جسم وقت کی کمی میں پلا بڑھا ہے۔ اسی کمی نے اسے تربیت دی ہے۔ یہاں مزاحمت کسی نعرے کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ ایک طرزِ زندگی بن جاتی ہے۔ خود احترام، خود ضبط اور خود قدر یہاں کسی کتاب سے نہیں سیکھے جاتے، بلکہ حالات کے اندر سے کشید ہوتے ہیں۔ یہی قدریں اس مزاحمت کی اصل بنیاد ہیں۔
یہ مزاحمت سیدھی لکیر نہیں۔ اس میں نشیب ہیں، فراز ہیں، رک جانا ہے، دوبارہ چل پڑنا ہے۔ کبھی دن روشنی سے بھرپور ہوتے ہیں، اور کبھی راتیں اتنی بھاری کہ آنکھیں خاموش ہوکر سب کچھ کہہ دیتی ہیں۔ یہاں درد اور امید ایک دوسرے کے خلاف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں۔ درد نہ ہو تو مزاحمت کھوکھلی ہو جاتی ہے، اور امید نہ ہو تو مزاحمت خود کو ختم کر دیتی ہے۔ بلوچ مزاحمت ان دونوں کے درمیان توازن ہے۔ یہی توازن اسے طویل بناتا ہے۔
یہاں دکھ خاموشی نہیں بنتا، مزاحمت بن جاتا ہے۔ وہ دکھ جو سب کچھ لٹا دیتا ہے، مگر زندگی کے اصل معنی پالتا ہے۔ یہی وہ نہج ہے، جہاں انسان سمجھتا ہے کہ خوراک، لباس اور سلامتی سب ضروری ہیں، مگر کافی نہیں۔ اصل ضرورت وجود کے مقصد کی ہوتی ہے۔ یہی خیال بلوچ مزاحمت کے اندر ایک عملی حقیقت کی صورت میں موجود ہے۔ یہاں دکھ ایک ایسی بھٹی بن جاتا ہے جس میں انسانی روح کندن کی طرح ڈھلتا ہے۔
بلوچ مزاحمت قربانی کی نمائش نہیں کرتی۔ یہاں کوئی اسٹیج نہیں، کوئی تالیاں نہیں۔ یہاں قربانی ایک خاموش فیصلہ ہے۔ ایک ایسا عمل جو اکثر بغیر کسی گواہ کے انجام پاتا ہے۔ اس لیے اس مزاحمت کی پیمائش گزرے ہوئے سالوں سے نہیں کی جا سکتی۔ اسے اس زندگی سے ناپا جاتا ہے جو اس کے اندر بستی ہے۔ اس تپش سے جو وہ اپنے اندر سنبھال کر رکھتی ہے۔ اس تخلیقی صلاحیت سے جو سب کچھ چھن جانے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔
یہ مزاحمت ہمیں صرف سوچنا نہیں سکھاتی، سوال کرنا سکھاتی ہے۔ وہ سوال جو روزمرہ کے فیصلوں میں جنم لیتے ہیں۔ کہاں جھکنا نہیں۔ کہاں رکنا نہیں۔ کہاں خاموشی بھی انکار ہے۔ یہی سوال اخلاقیات کو نئے سرے سے ترتیب دیتے ہیں۔
بلوچ مزاحمت خاموش نہیں ہوتی، مگر واویلا بھی نہیں مچاتی۔ اس کی خاموشی خود ایک شعور ہے۔ ایک ایسی حکمت جو وقت کے ساتھ اپنی صورتیں بدلتی رہتی ہے۔ کبھی یہ جسم میں ظاہر ہوتی ہے، کبھی رویے میں، اور کبھی صرف اس ضد میں کہ سب کچھ مان لینا ضروری نہیں۔ یہی وہ ضد ہے جو اس مزاحمت کو تحلیل ہونے سے بچاتی ہے۔
قلم اور کتابوں کی خوشبو، علم اور شعور کا سفر، مستقل مزاجی کا دستور۔ یہ سب یہاں کسی رومان کے طور پر موجود نہیں، بلکہ ایک مسلسل مشق کے طور پر وجود رکھتی ہیں۔ جب ہر سانس اپنی خاموشی کے ساتھ بولتی ہے، تو راستے بنتے جاتے ہیں۔ ان راستوں میں روشنی پیدا ہوتی ہے۔ وہ روشنی جو اندھیروں میں بھٹکے ہوئے انسانوں کو یہ احساس دلاتی ہے کہ سمت مکمل طور پر گم نہیں ہوئی۔
اور پھر
جو یقین کی راہ پر چل پڑے
انہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا
وہ قدم قدم پہ بہک گئے
یہ مزاحمت وقت کے ساتھ اپنے لہجے بدلتی رہی ہے۔ کبھی سخت، کبھی محتاط۔ کبھی سامنے، کبھی پردے کے پیچھے۔ مگر اس نے ایک بات کبھی نہیں چھوڑی، خود فیصلہ کرنے کا حق۔ یہاں سب کچھ چھن سکتا ہے، مگر فیصلہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ مزاحمت مکمل جمود میں کبھی نہیں گئی۔ یہ جانتی ہے کہ بعض اوقات زندہ رہنا خود ایک عمل بن جاتا ہے۔ بعض اوقات صرف موجود رہنا بھی ایک انکار ہوتا ہے۔
مزاحمت کبھی انسان کو ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں اسے بہت کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ وہ لمحے، وہ محفلیں، وہ لفظوں کی بستیاں جو کبھی سہارا تھیں۔ مگر یہی چھوڑنا اسے باقی رکھتا ہے۔ کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ساتھ جینا ممکن نہیں، اور کچھ ایسی جن کے بغیر جینا بے معنی ہو جاتا ہے۔ بلوچ مزاحمت اسی فرق کو زندہ رکھتی ہے۔
آخر کار یہ مزاحمت کسی انجام کا وعدہ نہیں کرتی۔ نہ فتح کا، نہ شکست کا۔ یہ صرف یہ ضد رکھتی ہے کہ انسان وقت کے نیچے دب کر بھی اپنی جگہ خود طے کرے، وہ تھکن کے ساتھ جینا سیکھے، مگر تھکن کے مطابق جینا نہیں۔ وہ خوف کو پہچانے، مگر خوف کے تابع نہ ہو۔
یہی قائم رہنے کا فن ہے۔
اور یہی بلوچ مزاحمت کی اصل صورت ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































