دکی مقامی کوئلہ کان میں زہریلہ گیس کی وجہ سے دم گھٹنے سے ایک کانکن جانبحق ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق دکی سے 8 کلومیٹر غربی جانب واقع مقامی کوئلہ کان میں دوران کانکنی زہریلی گیس سے بھرنے سے کانکن عبدالرشید ولد عبدالغفور قوم اچکزئی سکنہ افغانستان موقع پر جانبحق ہوگیا۔
مقامی کانکنوں نے اپنی مدد اپکے تحت لاش کان سے نکال کر ہسپتال منتقل کردی گیا، جہاں سے ضروری کاروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کرکے افغانستان روانہ کردی گئی۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں کانکنی سے منسلک حادثات کے واقعات نئے نہیں ہیں پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں سال 2025 کے دوران کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مختلف حادثات کے نتیجے میں 89 کانکن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی۔
بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے حادثات معمول بنتے جا رہے ہیں، جن کی بڑی وجہ حفاظتی اقدامات کا فقدان قرار دیا جاتا ہے، تاہم کان مزدور یونینز کے بار بار مطالبات کے باجود کوئی اقدامات عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے۔

















































