بلوچ یکجہتی کمیٹی نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ محمد عصا کے 14 سالہ بیٹے اور طالب علم راہی عصا کو ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈ نے ایک ٹارگٹڈ حملے میں گولی مار کر قتل کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق راہی عصا کو ہوشاپ، کیچ کے مرکزی بازار میں نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملٹری انٹیلیجنس سے منسلک ایک ڈیتھ اسکواڈ کے مسلح افراد نے کم عمر بچے پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ حملہ آور واردات کے فوراً بعد فرار ہو گئے۔
بی وائی سی نے کہاکہ راہی عصا ایک طالب علم تھا، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت بچوں کو خصوصی تحفظ حاصل ہے اور انہیں کسی بھی صورت تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم اس ریاست میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ایک بچے کا ماورائے عدالت قتل بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جن میں کنونشن برائے حقوقِ طفل بھی شامل ہے، جو بچوں کے حقِ زندگی، تحفظ اور سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔
مزید کہا ہے کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ قتل بلوچستان میں جاری اس تسلسل کی عکاسی کرتا ہے جہاں ریاستی سرپرستی میں مسلح گروہ مکمل استثنا کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کریں، ذمہ داران کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں، اور بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈز کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالیں۔


















































