بلوچستان کو خیرات نہیں، اپنا حق اور انصاف چاہیے – نظام بلوچ

21

بلوچستان کو خیرات نہیں، اپنا حق اور انصاف چاہیے

تحریر: نظام بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

چاغی بلوچستان کا وہ خطہ ہے جہاں زمین کے نیچے سونا، چاندی، تامبہ اور سنگ مرمر جیسے قیمتی خزانے موجود ہیں۔ یہاں بیک وقت تین بڑے بین الاقوامی منصوبے چل رہے ہیں جبکہ نیشنل اور غیرملکی کمپنیاں برسوں سے ان وسائل کو نکال کر اربوں روپے کماتی آ رہی ہیں۔ مگر افسوس کہ انہی زمینوں کے اصل وارث چاغی کے عوام آج بھی بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم ہیں۔

ریاست پاکستان روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان سے اربوں روپے کی مالیات مختلف طریقوں سے کما رہی ہے۔ یہ کمائی صرف معدنی وسائل تک محدود نہیں بلکہ مختلف پوسٹنگز، سرکاری عہدوں، مقامی سرکاری سرداروں اور خود بلوچستان کے مسائل کے نام پر کی جا رہی ہے۔ پورا ملک درحقیقت بلوچستان کے وسائل پر چل رہا ہے مگر بدلے میں بلوچستان کو کیا دیا گیا؟

نہ صحت، نہ معیاری تعلیم، نہ سڑکیں، نہ صاف پانی، نہ بجلی، اور نہ ہی روزگار کے مواقع۔ دو ممالک افغانستان اور ایران سے سرحد رکھنے والا یہ خطہ آج بھی ترقی کے نقشے میں نظر انداز ہے۔ یہاں کے نوجوان بے روزگاری، مایوسی اور محرومی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اب جب یہ حقائق مزید چھپانا ممکن نہیں رہا تو وزیراعظم کی جانب سے ایک اسکول کا اعلان کر دیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ ریاست پنجاب کے فنڈز سے بلوچستان کو نوازا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان دینے والا ہے، لینے والا نہیں۔

سوال یہ ہے: کیا یہ اسکول واقعی بنے گا؟ یا یہ اعلان بھی محض الفاظ، کاغذی کارروائی اور سیاسی دکھاوے تک محدود رہے گا؟ کل سے خوشامد کرنے والوں کی بھرمار ہے کہ فلاں کی تجاویز ہے، فلاں کا درخواست ہے اور خطوط کے نام پر حکمرانوں کی واہ واہ میں مصروف ہیں۔ شرم آتی ہے یہ دیکھ کر کہ چاغی کے دن کے اربوں روپے کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں جبکہ عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔

چاغی میں ایک اسکول نہیں، ہزاروں یونیورسٹیاں، اسپتال، ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹس اور روزگار کے مراکز ہونے چاہئیں تھے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ چاغی اور بلوچستان کے لوگ اپنے وسائل اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ یہ غیرسنجیدہ اعلانات عوام کے صبر کی حد کو آزما رہے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔