بلوچستان گرینڈ الائنس کے 32 ممبران کی معطلی اور قائدین کی گرفتاری تشویشناک ہے۔ تنظیم اس غیر قانونی عمل کی مذمت کرتی ہے۔بساک

36

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق اور انصاف کی آواز بلند ہوئی، حکومتِ وقت نے اسے طاقت اور انتقام کے ذریعے دبانے کی کوشش کی۔ موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان گرینڈ الائنس کے جائز مطالبات کے جواب میں جبر و تشدد کا راستہ اختیار کرنا انتہائی شرمناک اور آمرانہ فعل ہے۔ تنظیم نہ صرف ان ملازم کش پالیسیوں کی مذمت کرتی ہے بلکہ اُن کے اس مزاحمتی عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، جو پچھلے کئی مہینوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ لیکن ان کی شنوائی کی بجائے طاقت کے ذریعے انہیں کچلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جہاں تعلیمی ڈھانچہ پہلے ہی تباہی کا شکار ہے، وہاں 32 پروفیسرز اور لیکچررز بشمول خواتین اساتذہ کی معطلی اور قائدین کی گرفتاریاں اس بات کی عکاس ہیں کہ حکومت علم اور قلم سے خوفزدہ ہے۔ حکمران طبقہ جہاں ایک جانب یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتا کہ تعلیمی میدان میں نئے نئے بہتر اقدامات ہو رہے ہیں، وہیں دوسری جانب اساتذہ کو معطل کرنا اور گرفتار کرتا ہے، جن میں پروفیسرز اور لیکچررز شامل ہیں۔ اساتذہ کسی بھی سماج کا معتبر ترین طبقہ ہوتے ہیں، لیکن بلوچستان کی بے حس حکومت نے انہیں سڑکوں پر گھسیٹ کر اور انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ حقیقت میں ان کی ترجیحات میں تعلیم اور عوامی فلاح نہیں، بلکہ صرف اقتدار کا تحفظ ہے۔

مزید کہا ہے کہ بلوچستان گرینڈ الائنس کے مطالبات جائز ہیں اور حکومت نے اُن کے ساتھ ایگریمنٹ بھی کیا ہے، اب جبکہ ان مطالبات پر عملدرآمد کا وقت آچکا ہے تو حکومت اور حکومتی نمائندے اپنے کیے وعدے اور ایگریمنٹ سے مُکر رہے ہیں جو حکومتی غیرسنجیدگی کو عیان کرتی ہے۔ ہم بلوچستان گرینڈ الائنس کے احتجاج کی حمایت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ تعلیمی اداروں کو تالابندی کی طرف دھکیلنے کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت کی ضد اور ہٹ دھرمی پر عائد ہوتی ہے۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی اور اظہارِ رائے کو کچلنے کے یہ ہتھکنڈے اب روز کا معمول بن چکے ہیں جو حکومت کی سیاسی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ تنظیم طلبہ اور اساتذہ کے رشتے کو جسم اور روح کا رشتہ سمجھتی ہے۔ اور اپنے اساتذہ کی اس توہین اور پرامن مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہنے اور طاقت کے استعمال سے ہٹ کر پُرامن طریقے سے ان کے مطالبات کو سن کر ان کی شنوائی کرے۔