بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے خلاف حکومتی الزامات بے بنیاد ہیں، تنظیم کا مؤقف

45

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے تنظیم کے خلاف عائد کیے گئے الزامات اور منفی بیانیہ سازی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے تنظیم کے خلاف بے بنیاد الزامات اور منفی بیانیہ سازی تشویشناک ہے۔ بساک بلوچستان میں علمی و تعلیمی حقوق اور معاشرتی بہتری کے لیے سرگرم ایک فعال طلبہ تنظیم ہے۔

ترجمان کے مطابق گزشتہ دنوں حکومتِ بلوچستان کے نمائندوں کی جانب سے کوئٹہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں تنظیم کے خلاف من گھڑت الزامات لگائے گئے، جو نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ بحیثیت حکومتی نمائندہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے، حکومتی نمائندوں کی جانب سے بغیر تحقیق اور سچائی جانے اس طرح کی بے بنیاد الزام تراشی انتہائی تشویشناک ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی بے بنیاد اور منفی بیانیہ سازی صرف بلوچ طلبہ کو ان کے جائز تعلیمی حقوق اور علم سے دور رکھنے کی ناکام سازش ہے۔

ترجمان نے کہا بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بلوچستان میں تعلیم، علمی حقوق اور معاشرتی بہتری کے لیے سرگرم ایک فعال طلبہ تنظیم ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنا اور بلوچ معاشرے میں علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے خوشگوار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ بلوچ نوجوان جدید دور کے علوم سے آراستہ ہو کر ایک تعلیم یافتہ نسل بن سکیں۔ 

انکا کہنا تھا ہماری تمام تعلیمی و سیاسی سرگرمیاں بلوچستان میں واضح ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچ نوجوان اس تنظیم میں شامل ہو کر اپنے تعلیمی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، بلوچستان میں کتاب پڑھنے کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے ‘بلوچستان کتاب کاروان’ کے نام پر کتب میلے، تعلیمی اداروں میں سہولیات کی عدم دستیابی اور ناخواندگی کے خلاف ‘بلوچ لٹریسی کیمپین’ سمیت بلوچستان بھر میں علمی و ادبی سرگرمیاں ہمارے پروگراموں کا حصہ ہیں۔

ترجمان نے کہا بلوچستان، جسے پہلے ہی علمی میدان میں پیچھے رکھا گیا اور جس کا تعلیمی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، وہاں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم طلبہ کو کبھی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی دوسرے ہتھکنڈوں کے ذریعے انہیں ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے جائز تعلیمی و انسانی حقوق سے دستبردار ہو جائیں۔ 

انہوں نے کہا بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اسی کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو دیوار سے لگایا جاتا ہے، یہ تمام اقدامات نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ بلوچ طلبہ کو مزید اندھیرے میں دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ 

بساک ترجمان کے مطابق بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگا کر اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اب منفی پروپیگنڈہ کر کے تنظیم اور بلوچ طلبہ کے خلاف بیانیہ سازی کی جا رہی ہے تاکہ سیاسی سرگرمیوں پر ان غیر قانونی پابندیوں کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ 

انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ بلوچ نوجوانوں سے اس لیے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ پڑھتے ہیں، سوال کرتے ہیں، تنقید کرتے ہیں اور غور و فکر کر کے اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اس کرپٹ نظام میں سوال اور تنقید کرنا اب جرم بن چکا ہے، مگر بلوچ نوجوان پڑھنے، تنقید کرنے اور اپنے جائز حقوق کی جدوجہد سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔

ترجمان نے مزید کہا ہم میڈیا کے توسط سے یہ واضح کرتے ہیں کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہیں ہے بلکہ آئین کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کر رہی ہے اور ہماری جدوجہد روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ 

انہوں نے آخر میں کہا حکومتی نمائندے ایسی غیر ذمہ دارانہ الزام تراشی سے اجتناب کریں اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں جمہوری و پرامن سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تنظیم کے مرکزی ترجمان کے مطابق حالیہ دنوں کوئٹہ میں حکومتی نمائندوں کی پریس کانفرنس میں بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے خلاف من گھڑت الزامات لگائے گئے، جو بغیر تحقیق اور حقائق کے برخلاف ہیں۔ 

بیان میں کہا گیا کہ اس قسم کی الزام تراشی بلوچ طلبہ کو ان کے جائز تعلیمی اور آئینی حقوق سے دور رکھنے کی ناکام کوشش ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی بلوچستان میں تعلیم، علمی حقوق اور معاشرتی بہتری کے لیے کام کرنے والی ایک فعال طلبہ تنظیم ہے، جو نوجوانوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے اور علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہے۔ 

تنظیم کی جانب سے بلوچستان کتاب کاروان، بلوچ لٹریسی کیمپین اور دیگر تعلیمی پروگرامز کے ذریعے تعلیمی شعور اجاگر کیا جا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان میں تعلیمی نظام پہلے ہی بحران کا شکار ہے، جبکہ تعلیمی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے اور کرپشن کے خلاف بولنے والوں کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ اقدامات نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ بلوچ طلبہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ بھی ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے واضح کیا کہ تنظیم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں اور آئین کے دائرے میں رہ کر پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ 

ترجمان نے مطالبہ کیا کہ حکومتی نمائندے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں اور بلوچستان میں جمہوری، تعلیمی اور پرامن سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔