شہدائے قلات: مزاحمت کا انمٹ باب
سفر خان بلوچ (آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ
تاریخ صرف واقعات کی فہرست نہیں ہوتی، بلکہ یہ قوموں کے شعور کی داستانیں ہوتی ہے۔ تقویم میں کچھ دن عام ہوتے ہیں، مگر بعض دن صدیوں پر محیط ہے معنویت اپنے اندر سمو لیتے ہیں۔
6 جنوری 2002 بھی بظاہر دنیا کے لئے روزمرہ کی طرح معمولی دن تھا، لیکن اگر 6 جنوری 2002 کو بلوچ تاریخ کے تناظر میں دیکھے تو یہ دن محض تاریخ نہیں بلکہ ایک فکری موڑ، اور ایک مسلسل جدوجہد کا نیا باب ثابت ہوا اور یہ نئی باب تاحال جاری و ساری ہے۔
قلات کو جغرافیائی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک سرد، پہاڑی اور نسبتاً خاموش شہر ہے۔ مگر بلوچ مزاحمتی تاریخ میں قلات ہمیشہ سے اقتدار، خودمختاری، مزاحمت اور شہیدوں کی علامت رہا ہیں۔
قلات وہ مقام ہے جہاں تاریخ نے بارہا یہ سوال اٹھایا کہ کیا طاقت حق کو جنم دیتی ہے، یا حق طاقت کو؟
قلات کی سرد راتیں محض موسم کی سختی نہیں ہوتیں، بلکہ یہ تاریخی یادداشت کی سرد مہری بھی اپنے اندر جذب کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب 6 جنوری 2002 کی رات قلات پر چھائی تو وہ رات معمول کی نوعیت سے ہٹ کر تھی وہ رات نہیں تھی بلکہ وہ صدیوں کے سوالات کو اپنے دامن میں لیے ہوئے تھی۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچ مزاحمت کی آغاز ناگہاں نہیں تھی بلکہ ایک تاریخی روایات کا تسلسل ہے بلوچ سرزمین کے فرزندوں نے ہمیشہ قبضہ گیر اور حملہ آواروں کے خلاف مزاحمت سے کبھی بھی انکار نہیں کیا ہے اپنی بقا اور شناخت کے لئے ہمیشہ اپنی آواز کو بلند و بالاتر کیا ہیں۔
اگر بلوچ مزاحمت کو محض عسکری عمل کے طور پر دیکھا جائے تو یہ فکری بددیانتی کے مترادف ہوگا۔ یہ مزاحمت دراصل ایک سوال ہے کیا انسان کو اپنے وجود، شناخت اور فیصلے پر اختیار حاصل ہے یا نہیں؟
2002 میں دنیا اکیسویں صدی میں داخل ہو چکی تھی۔ سرد جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا، عالمی سیاست میں “دہشت گردی” اور “قومی و ملکی سلامتی” جیسے بیانیے سامنے آرہے تھے۔
اسی عالمی فضا میں طاقتوں ریاستیں اکثر اختلافِ رائے کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ محسوس کررہے تھے بلوچستان بھی اس عمومی رجحان سے مستثنیٰ نہ تھا۔ مگر یہاں مسئلہ صرف ریاستی سلامتی کا نہیں تھا بلکہ بلوچ قومی تشخص، وسائل، تاریخ اور وطن کی آزادی تھی۔
6 جنوری 2002 کی رات، قلات کے ایک گھر میں تین نوجوان، گلبھار پرکانی، واحد مری (بیس سالہ نوخیز نوجوان) اور صوبیدار مری۔ یہ بلوچ فرزند فقط کسی افسانوی کردار نہیں تھے بلکہ یہ اس غلام معاشرے کے فرزند تھے جہاں انہوں نے محرومی، نظراندازی اور سوالات کے سائے میں آنکھ کھولی تھی۔
جب رات کے وقت بزدلوں کی طرح فوج نے ان کے گھر کو گھیر کر انہیں للکارا تھا “ہاتھ اوپر اور سر نیچے کر کے باہر آ جاؤ”
تو یہ محض ایک حفاظتی حکم نہ تھی بلکہ یہ ایک فکری مطالبہ تھا۔
سر جھکا دو
سوال مت کرو
اطاعت قبول کرو
یہ لمحہ فقط مزاحمت نہ تھی یہ بلوچ تحریک کو روح بخشنے کی ایک قدم تھی ان تین بلوچ سرزمین کے فرزندوں نے ہاتھ اوپر کرنے کے بجائے مزاحمت کو چُنا۔ یہ فیصلہ کسی جزبات اور جوش کی نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ اس شعور کا اظہار تھا جو برسوں پہلے بلوچ کلچر میں جنم لے چکا تھا۔
یہی وہ لمحہ تھا جہاں یہ تین نوجوان محض افراد نہیں رہے، بلکہ بلوچستان کی جدوجہد اور مزاحمت کی علامت بن گئے۔
اگلے دن پاکستانی اخبارات میں نیوز آنے لگے کہ “قلات میں دشمن ملک ہندوستان کے تین ایجنٹ مارے گئے”
یہ جملہ محض ایک خبر نہیں تھا بلکہ یہ بیانیے کی طاقت کا اظہار تھا۔
تاریخ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طاقتور فریق سچ کو وقتی طور پر اپنے الفاظ میں قید کر لیتا ہے۔
مگر فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ سچ کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن کبھی بھی مٹایا نہیں جا سکتا اور جب ہم موجودہ مزاحمتی تحریک کو دیکھتے ہیں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ 6 جنوری کے شہداء محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اس جاری تحریک کے اولین شہداء تھے، یہ وہ کرن تھے جنہوں نے اندھیرے میں پہلا شعلہ روشن کیا، تاریخ میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پہلی قربانی سب سے زیادہ تنہا مگر سب سے زیادہ معنی خیز بھی ہوتے ہیں۔
عام فہم میں شہادت کو موت کا ہم معنی سمجھا جاتا ہے، مگر تاریخی شعور میں شہادت ہمیشہ اختتام نہیں بلکہ آغاز ہوتی ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں لوگ جسمانی جدا ضرور ہوتے ہیں مگر ان کا نام ایک ایسے سفر پر نکل پڑتے ہے جو نسلوں پر محیط ہوتی ہے۔ وہ موت جو سوال پیدا کر دے، وہ شکست نہیں ہوتی، اور وہ زندگی جو سوال دبانے میں گزر جائے، وہ بقا نہیں ہوتی۔ 6 جنوری کے تینوں شہداء کی شہادت بھی اسی نوعیت کی تھی انہوں نے اس سوال کو زندہ رکھا، اور یہی ان کی سب سے بڑی فتح تھی۔
واحد مری کی عمر محض بیس سال تھی۔ تاریخ میں بیس سال ایک عدد ہے، مگر تحریکوں میں بیس سال ایک امکان ہوتا ہے۔ وہ عمر جس میں انسان عموماً اپنے مستقبل کے خواب دیکھتا ہے، واحد مری نے اسی عمر میں اپنے وجود کو ایک بڑے خواب سے جوڑ دیا۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ شعور کی گہرائی عمر کی محتاج نہیں ہوتی۔
کبھی کبھی حالات انسان کو وقت سے پہلے بالغ کر دیتے ہیں اور واحد مری اسی سچ کی مثال ہے واحد مری اس قوم کی نمائندگی کررہا تھا جس قوم نے شہادت اور مزاحمت کو اپنی کلچر کا حصہ بنایا تھا۔
اگر واحد مری نوخیز شعور کی علامت تھا، تو گلبھار پرکانی اور صوبیدار مری تجربے اور استقامت کے نمائندہ تھے۔
یہ دونوں اس موقف کے دلیل ہے کہ مزاحمت صرف جذبات کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا مؤقف ہے۔ تجربہ انسان کو خوف سکھاتا ہے، مگر کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جو تجربے سے خوف پر قابو پانا سیکھ لیتے ہیں۔ یہ دونوں اسی درجے کے لوگ تھے جو یہ سمجھ چکے تھے کہ بعض اوقات خاموش رہنا آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی ہیں۔
6 جنوری کے یہ تینوں نام ایک ساتھ تاریخ میں امر ہوگئے یہ تینوں ایک دوسرے سے مختلف عمر کے لوگ اپنی ذاتی زندگی میں ایک الگ کہانیوں کے باوجود ایک ہی لمحے میں ایک ہی معنی کا حصہ بن گئے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب فرد کی شناخت تحلیل ہو کر اجتماعی شعور میں ضم ہو جاتے ہیں
ریاستی بیانیے نے انہیں “دشمن کے ایجنٹ” قرار دیا، مگر تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ نوآبادکار ہمیشہ کوشیش کرتی ہے کہ مزاحمت کو غیر اخلاقی ثابت کرے، تاکہ سوال کو غیر ضروری بنا دیا جائے۔ مگر شہادت کی خاصیت یہی ہے کہ وہ الزام کو بھی سوال میں بدل دیتی ہے۔
یہ کون تھے؟
کہاں سے آئے تھے؟
اور کیوں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ؟
تحریکیں ہمیشہ تیاری کے ساتھ جنم لیتی ہیں کسی ایک لمحے میں نہیں، لمحے اور واقعات تحریک کو روح بخشنے میں مدد دیتے ہیں۔ 6 جنوری کے شہداء تحریک کے سیڑھی کے پہلی قدم تھیں یہ ایک نعرہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک خاموش مگر مستقل سمت تھی۔
موجودہ تحریک اور مزاحمت اسی تسلسل سے جڑی ہیں جہاں ان شہیدوں نے قربانی کو اول ترجیح دیکر تاریخ میں امر ہوگئے اور یہ جنگ کسی نہ کسی طرح اسی کرن سے جڑی نظر آتی ہے
وہ رات ختم ہو گئی، مگر قلات کی سردی میں ایک حرارت رہ گئی۔ تین نام، تین سانسیں، اور ایک فیصلہ، جس نے وقت کی سمت بدل دی۔
گلبھار پرکانی، واحد مری اور صوبیدار مری اس رات جیتنے نہیں نکلے تھے بلکہ وہ صرف جھکنے سے انکار کرنے نکلے تھے۔ اور تاریخ میں بعض اوقات یہی انکار مزاحمت سب سے بڑی فتح بن جاتا ہے۔
ریاست نے انہیں ایک خبر بنا کر دفن کرنا چاہا، مگر زمین نے انہیں اپنی یادداشت میں قید کرلیا۔ یہ تینوں نہ کسی نعرے کا شور تھے اور نہ کسی لمحاتی جوش کی پیداوار، یہ اس خاموش یقین کی پیداوار تھے، جو صدیوں سے بلوچ شعور میں جنم لیتی رہی ہے کہ وقار اگر بچ جائے تو موت بھی معنی پا لیتی ہے۔
یوں 6 جنوری 2002 کسی قبرستان میں ختم نہیں ہوا، وہ ایک راستہ بن گیا، ایسا راستہ جس پر چلنے والوں کو روشنی دکھانے کے لیے، تین چراغ کافی تھے۔ یہی وہ چراغ تھے، جو بلوچ تحریک کے رواں اندھیرے میں، روشنی کی پہلی مستقل کرن بنے، اور کچھ کرنیں، غروب نہیں ہوتیں وہ ہمیشہ زندگی رہتی ہے تاریخ میں امر ہوتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

















































